5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
جیک آبادسیلابی پانی میں گھر گیا، 80فیصد آبادی گھر بارچھوڑنے پر مجبور
جنگ نیوز -
کراچی…سندھ میں کچے کا علاقہ مکمل طور زیر آب آجانے کے بعد سیلاب جیکب آباد شہر میں داخل ہوگیا ہے اور شہر کی80 فیصد آبادی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئی ہے پنجاب کی طرف سے آنے والے ایک اور سیلابی ریلے کی وجہ سے گڈو بیراج میں آیندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ اس وقت جیکب آباد میں صرف چند ہزار لوگ ہی اپنے املاک کی حفاظت کے لیے موجود ہیں،تاہم حکومت یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی امدادی کارروائی شروع نہیں کی جاسکی۔خیرپور کے اُلرا جاگیربند ،جمشید لوپ بند ،فرید آباد بند،راضی ڈیرو بند،رامیجا بند، پریالو بند اور سگیوں بند پر شدید سیلاب کے باعث بندوں میں کٹاؤ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ضلع نوشہروفیروز میں کچے کا نوے فیصد علاقہ زیر آب آجانے کے بعد پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ ٹھٹھہ میں کچے کے رہائشیوں کومحفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے بھانوٹ بند اور کوٹری بیراج میں قاسم آباد،حسین آباد اورلطیف آباد بچاؤ بند میں بھی پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ گھوٹکی میں بھونگ بند ٹوٹنے سے زیرتعمیر رینی کینال میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کا دباؤ برقرارہے۔ نئوں گوٹھ میں رابطہ پل بہہ جانے کے بعد علاقے کا مہیڑ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیکڑوں لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لاڑکانہ میں نصرت لوپ بند، عاقل آگانی بند، پرانہ آباد اور حسن واہن بندوں پر گیارہ لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کے بعد رینجرز اور محکمہ آبپاشی کے اہلکاربندوں کی نگرانی کررہے ہیں۔