5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
تمام پڑوسی ممالک میں امن اور خوش حالی دیکھنا چاہتے ہیں،من موہن
جنگ نیوز -
نئی دہلی…بھارتی صدر من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گا، تاہم ایسا نہ ہوا تو دو طرفہ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔نئی دہلی کے لال قلعے میں بھارت کے 64ویں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے من موہن کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت تمام پڑوسی ممالک میں امن و چین اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں اور تمام اختلافات کو بات چیت سے حل کرنے کے خواہش مند ہیں، مگر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں۔من موہن سنگھ کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے اور اسی دائرے میں رہتے ہوئے اُن تمام گروپوں سے بات چیت ہوسکتی ہے جو تشدد کا راستہ ترک کر دیں۔دوسری طرف بھارت کے چونسٹھویں یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے اور کشمیری عوام یوم سیاہ منارہے ہیں، جبکہ بھارتی فورسز نے وادی میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے مکمل کرفیو لگا رکھا ہے۔نئی دہلی میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر پورا شہر سیکیورٹی کے سخت ترین حصار میں کسی قلعے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دارالحکومت کو عارضی طور پر نو فلائی زون بھی قرار دے دیا گیا ہے۔