5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
سندھ : سیاسی و حکومتی شخصیات پر بندوں میں شگاف ڈالنے کے الزامات
جنگ نیوز -
کراچی…دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے سلسلے میں یہ الزامات بھی سامنے آرہے ہیں کہ سیاسی اور حکومتی شخصیات کے دباؤ پربندوں میں شگاف ڈال کر شہروں اور دیہاتوں کو ڈبو دیا گیا ہے ۔سندھ میں گڈو بیراج پراونچے درجے کے سیلاب سے ریلا سکھر بیراج کی جانب بڑھا تو سکھر بیراج کے تحفظ کا نقطہ نظر زیربحث آنے لگا اورحکومت، انتظامیہ اور سیاسی قیادت میں مشاورت اور اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگیں ۔یہ الزامات لگائے گئے کہ وفاقی وزیر خورشید شاہ علی واہن بند میں شگاف ڈالنے کی مخالفت کررہے ہیں جس میں 1976 میں شگاف ڈال کر سکھر بیراج اور شہر کو محفوظ کیا گیا تھا۔دوسری جانب دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر توڑی بند کے ٹوٹنے سے سیلابی ریلاغوث پور، کرم پور، تھل اور جیکب آباد میں داخل ہوگیا یہ بھی الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس بند میں بھی مفادات کی خاطر شگاف ڈالا گیا۔ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے الزام عائد کیا ہے کہ جیکب آباد شہر کو بچانے کے لیے وفاقی وزیراعجاز جکھرانی نے کوئٹہ بائی پاس پر نور واہ کو کٹ لگوایا جس کے باعث جعفر آباد اور دیگر علاقے ملیامیٹ ہوگئے۔وفاقی وزیر اعجاز جکھرانی کا کہنا تھا کہ اگر میر ظفر اللہ جمالی پانی کو راستہ دیں گے تو جیکب آباد پر جو دباؤ ہے وہ ختم ہوجائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے ہوسکتا ہے کہ کسی کا نقصان ہو اور کچھ دیہاتوں کی قربانی دینی پڑے اگر یہ شہر ڈوب گیا تو یہ بڑا المیہ ہوگا۔ادھر سندھ کے وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزاکا کہنا ہے کہ ٹھٹھہ میں بااثر افراد نے غیر قانونی بند بنائے تھے جنہیں توڑ دیا گیاہے جبکہ ٹھٹھہ کے شیرازی برادران کا کہنا ہے کہ حکومت میں بیٹھے مخالفین ٹھٹھہ میں بند توڑ کر الیکشن میں اپنی ناکامی کا بدلہ لے رہے ہیں۔