5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
کراچی پہنچنے والے سیلاب متاثرین کی فوری امداد کی ہدایت
جنگ نیوز -
کراچی . . . .آغا خالد. . . . . صدر زرداری نے سندھ حکومت اور صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی کو خصوصی طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی پہنچنے والے سیلاب متاثرین کی فوری امداد اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کی براہ راست نگرانی کریں۔ کراچی کی شہری حکومت سیلاب متاثرین کی بڑے پیمانے پر کراچی آمد اور شہری حکومت کے مالی بحران کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کیلئے کراچی کے مخیر حضرات اور ادارے جہاں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کیلئے اپنی خدمات شہری حکومت کو پیش کر رہے ہیں وہیں بعض قوم پرست جماعتیں، لینڈ مافیا کے کارندے اور ہر رمضان میں اندرون سندھ سے کراچی آنے والے 50 ہزار سے زائد بھکاری اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں جس سے شہری حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ سٹی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کم از کم ایک کروڑ روپے طلب کرنے کے باوجود چار روز کے بعد سندھ حکومت نے آج شہری حکومت کو 40 لاکھ روپے دیئے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ اندرون سندھ اور بلوچستان کے زیریں علاقوں سے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار لوگوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ رہی ہے اور یہ لوگ صرف تن کے کپڑے بچا کر کراچی پہنچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور اکثر خاندان ایسے ہیں جن کا آدھا خاندان یا اس سے بھی زیادہ حصہ بچھڑ چکا ہے اور وہ اپنے پیاروں کو پانے کیلئے حکومتی اداروں سے مدد کے خواہاں ہیں اور اپنے کھانے پینے اور دیگر بنیادی ضروریات سے غافل صرف اپنے پیاروں کی یاد میں دیوانے بن کر اپنے بچھڑجانے والوں کے متلاشی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی سٹی گورنمنٹ لالہ فضل الرحمن کے بقول حکومت نے متاثرین کو ٹھہرانے کیلئے فوری طور پر تین مختلف مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کئے ہیں جن میں گلشن معمار، احسن آباد سے متصل ورکرز ویلفیئر بورڈ جہاں 8860 ہزار متاثرین موجود ہیں، بھینس کالونی کے سرکاری اسکولوں اور رزاق آباد میں قائم دوسرے کیمپ میں 1153 اور لانڈھی، کورنگی کے اسکولوں میں ایک ہزار کے قریب متاثرین موجود ہیں، سٹی حکومت جو پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہے اور جس کے بعد کے ڈی اے ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ملازمین آئے دن سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اس صورتحال سے مزید بحران زدہ ہو گئی ہے جبکہ کیمپوں میں موجود شیر خوار بچوں کیلئے دودھ کا انتظام انتہائی ضروری ہے اور کھانے پینے کے برتن، پانی کے کولر کسی بھی کیمپ میں تاحال فراہم نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ان کیمپوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے ۔کیمپوں میں پانی کے بڑے بڑے پرانے ڈرم رکھ دیئے گئے ہیں جو زنگ آلود ہیں اور ان میں موجود پانی بھی صحت کیلئے مضر ہے تاہم وہ یہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی کی درخواست پر شہر کے ایک معروف تاجر عقیل کریم ڈھیڈی نے گلشن رزاق آباد اور اس سے ملحق دیگر کیمپوں میں موجود پانچ ہزار متاثرین کو کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے، ورکرز ویلفیئر بورڈ میں موجود 9 ہزار متاثرین کو سیلانی ویلفیئر نے کم از کم ایک ہفتے تک کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ آرٹس کونسل کے اعزازی سیکرٹری احمد شاہ نے بھینس کالونی کے اسکول نمبر 5 میں رہائش پذیر 465 اسکول نمبر 7 میں 550 اور اسکول نمبر 8 میں 128 متاثرین کو کھانا فراہم کرنے کی ذمہ دار قبول کی ہے جبکہ ای ڈی او ریونیو روشن شیخ نے جنگ کو بتایا کہ آج دن بھر میں پانچ ہزار سے زائد متاثرین جیکب آباد، شکار پور، اوستہ محمد اور بلوچستان کے بعض زیریں علاقوں سے کراچی پہنچے ہیں جہاں متاثرہ کیمپوں میں پہنچایا گیا ہے اور مزید 10 متاثرین کے پہنچنے کی توقع ہے تاہم انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ متاثرین کی آڑ میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فلیٹوں پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی ہدایت پر پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے تقریباً 5 ہزار جعلی متاثرین کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا اور اس طرح ان پر آج آنے والے متاثرین سے کوئی زیادہ دباؤ نہیں پڑا جبکہ ان کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران کراچی میں اندرون ملک سے بڑی تعداد میں بھکاری بھی پہنچتے ہیں وہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان متاثرین کی نادرا سے تصدیق بہت ضروری ہے اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر ان کا محکمہ اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ رفاحی اداروں اور شخصیات کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد اصل ضرورت مندوں تک پہنچ سکے۔