تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

18ویں ترمیم میں ججز تقرر کے تمام معاملات کا حل نظر نہیں آتا، چیف جسٹس

جنگ نیوز -
سلام آباد . . . . . . . محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ میں ججز تقرر کے تمام معاملات کا حل موجود نظر نہیں آتا۔ پارلیمنٹ سے منظور ہوئے چار ماہ گزرنے کے بعد بھی آئینی ترامیم پر عمل نہیں ہوسکا جبکہ ججز تقرر کی پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری کا بھی واضح تعین موجود نہیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے17 رکنی بنچ نے18ویں آئینی ترمیم کے مقدمہ کی سماعت شروع کی تو پنجاب کے وکیل شاہد حامد نے دلائل جاری رکھے، چیف جسٹس نے ابتدائی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ ابھی فوری نوعیت کا معاملہ تو یہ ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی ختم ہوتی ہوئی مدت کا معاملہ کیسے حل ہو ،جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ18ویں ترمیم میں بلوچستان میں ججوں کے تقرر کے مسئلہ کا حل موجود نہیں ہے اور یہ ایک بحرانی کیفیت ہے ۔پنجاب کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ آرٹیکل175اے کو اختیارات کی تقسیم کے اصول کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے اور وزیراعظم نے ججز تقرر کا اپنا اختیار ، پارلیمانی کمیٹی کو دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر عمل درآمد میں عملی مشکلات ہیں ، آئینی ترمیم منظور ہوئے4 ماہ گزر گئے لیکن اس کے مطابق ابھی تک الیکشن کمیشن کی تشکیل نہیں ہوسکی ، ججز تقرر میں پارلے مانی کمیٹی کی کیا ذمہ داری ہے، یہ بنیادی قانون میں تحریر ہونا چاہیے تھا ، انہوں نے شاہد حامد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ججز تقرر کے نئے طریقہ کار میں مشکلات ہیں ۔شاہد حامد نے جواب دیا کہ ہماری درخواست ہے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ مل کر جمہوریت و قانون کی حکمرانی قائم کریں ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مقدمہ ملکی تاریخ میں اہم ترین ہے اور تنازعہ کو حل کرنے کی ایک مشترکہ کوشش بھی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.