5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44
نوابشاہ کے قریب دریائے سندھ میں مڈ منگلی کے مقام پر بڑا سیلابی ریلا
جنگ نیوز -
نواب شاہ . . . نواب شاہ کے قریب دریائے سندھ سے مڈ منگلی کے مقام پر بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ ادھر جیکب آباد کا ملک بھر سے چار روز سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔سکھر اور گڈو بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔محکمہ آب پاشی کے مطابق مڈ منگلی حفاظتی بند کے پشتے میں کٹاؤ روکنے کے لیے دو لاکھ کیوبک فٹ پتھر بھاری مشینری اور عملہ موجود ہے ۔ رات دن اس مقام کی نگرانی کی جارہی ہے۔جیکب آباد کا ملک بھر سے چار روز سے رابطہ منقطع ہے۔ شہر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ہے۔ ٹیلی کمیونی کیشن کا نظام بری طرح متاثر ہے۔خیرپور میں جمشید لوپ بند، اُلرا جاگیربند، فرید آباد بند، راوی ڈیرو بند اور ایس ایم سگیو بند پر سیلابی پانی کا دباؤ جاری ہے۔ جبکہ گمبٹ اور سوبھوڈیرو میں سیکڑوں افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ٹھٹھہ کے قریب دریائے سندھ کے حفاظتی بند سونڈا ہلایا کو آج سے رینجرز کی نگرانی میں دیا جا رہا ہے جبکہ منارکی اور سورجانی بند فوج کی نگرانی میں ہیں۔ چیف انجینئر کوٹری بیراج منظور شیخ کے مطابق دریائے سندھ کا بڑا سیلابی ریلا21 اور22 اگست کی درمیانی شب ٹھٹھہ سے گزرے گا۔سیلاب کے خطرے کے پیش نظر کچے کے علاقے سے80 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔لاڑکانہ میں عاقل آگانی ،پرانا آباد اور حسن واہن حفاظتی بندوں پر سیلاب کا دباؤ بدستور برقرار ہے،تاہم پانی کی سطح میں کمی رکارڈ کی گئی ہے۔ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر شہداد کوٹ اور قبو سعید خان کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث دونوں شہروں میں ہوکا عالم ہے تمام مرکزی بازار بند ہیں اور علاقے میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ادھر دادو مورو روڈ پر پڑنے والے شگاف کو تاحال پر نہیں کیا جاسکا ہے۔شگاف کے باعث کئی اضلاع کا زمینی رابطہ3 روز سے منقطع ہے۔حیدرآباد میں کوٹری بیراج کے مقام پر سیلابی صورتحال کے باعث قاسم آباد اور لطیف آباد کے بندوں پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔