تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:44

نیشنل اوور سائٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کونسل کے قیام کا فیصلہ کرلیا،وزیراطلاعات

جنگ نیوز -
اسلام آباد…وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھروں کی طرف واپسی کے لئے ابتدائی طور پر چالیس ارب روپے کا فنڈ مختص کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل اوور سایئٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کونسل کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کی تشکیل صوبوں سے نامزدگیاں وصول ہونے کے بعد کر دی جائے گی۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ فی خاندان کو بیس ہزار روپے ابتدائی طور پر دیئے جایئں گے۔ جس کے لئے بیس ارب روپے مرکزی حکومت جبکہ بیس ارب صوبائی حکومتیں فراہم کریں گی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین چوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجید، آرمی بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان، وفاقی وزرا ، وزرا اعلٰی، اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ چاروں صوبے نیشنل اوورسایئٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کونسل کے قیام کے لئے اچھی شہرت کے حامل افراد کے نام فراہم کریں۔ قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ میں آج تک ایک ارب 58 کروڑ 60 لاکھ رپوے جمع ہو گئے ہیں جبکہ وفاقی وزرا اداروں اور فوج کی جانب سے ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی اس رقم کے علاوہ ہیں۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ متاثرین سیلاب کی رجسٹریشن صوبائی سماجی بھلائی کے محکمے شروع کریں گے جس کی تصدیق اور معاونت نادرہ اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں سیلاب متاثرین کو ایک فارمولہ کے تحت معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پہلے ملکی وسائل سے انتظامات کئے جایئں گے اور تمام ترقیاتی و غیر ترقیاتی فنڈز منجمد کر دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو عوام پر فلڈ سرچارج عائد کیا جائے گا تاہم ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو میڈیکل کالجز کو موبالائز کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں تاکہ فائنل اور فورتھ ایئر کے میڈیکل کے طلبہ متاثرہ علاقوں میں جا کر طبی سہولیات فراہم کریں۔ قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم اکتوبر سے ریفارڈجی ایس ٹی کا نفاذ ہوگا اور حکومت کا اقتصادی ریفارمز کا عمل جاری رہے گا، غذائی اجناس کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت پرائس میجسٹریٹس کا نظام مضبوط بنا کر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ایندھن کی کمی پوری کرنے کے لئے سی ون تھرٹی جہازوں کے ذریعے تیل فراہم کرے گی۔ جبکہ مواصلات کا نظام اور بجلی کا نظام بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور حکومت اپنے تمام وسائل سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے لگائے گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.