تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45

آسٹریلیا میں جج کا خاتون گواہ کو چہرے سے نقاب ہٹانے کا حکم

جنگ نیوز -
سڈنی…سی ایم ڈی…آسٹریلیا میں ایک جج نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر دھاندلی کا معاملہ ہو تو پھر عدالت میں گواہی دیتے وقت مسلمان خاتون کا اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا ہوگا۔پرتھ کی ایک عدالت میں جج کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ غیر مناسب بات ہے کہ گواہی کے لیے عدالت میں چہرہ چھپا کر پیش ہوا جائے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ خاتون جن کی شناخت تسنیم کے نام سے ہوئی ہے ،بغیر نقاب کے خو کو پُر اعتماد محسوس نہیں کریں گی جس سے ان کی گواہی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ وکیلِ دفاع کا کہنا تھا کہ جیوری کے لیے ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنا ضروری ہے۔دفاعی وکیل مارک ٹروبل کا یہ بھی کہنا تھا کہ 36سالہ مذکورہ خاتون کے لیے نقاب پہننا ان کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن یہ اسلامی عقیدے کا کوئی لازمی جزو نہیں ہے اور مسلمان ملکوں کی عدالتوں میں خواتین کا بغیر نقاب کے پیش ہونا عام بات ہے۔جج شوناڈیئین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون کا اپنے چہرے سے نقاب ہٹانا ضروری ہے لیکن اس حکم کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قانونی شکل دیدی جائے، ان کا یہ حکم اس خاص معاملے کے لیے ہی ہے اور اسے نظیر نہیں بنایا جاسکتا۔جج نے اس بارے میں دوسری عدالتوں کی مثال کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ یہ آسٹریلیا کی عدالت ہے کسی اسلامی ملک کی عدالت نہیں۔مذکورہ خاتون ایک مدرسہ کے پرنسپل کے خلاف مقدمہ میں گواہ تھیں جن پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے زیادہ امداد حاصل کرنے کے لیے طلباء کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی تھی۔تسنیم گزشتہ 7برس سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں ۔وہ17برس کی عمر سے ہی وہ نقاب پہن رہی ہیں اور گزشتہ 18برس کے دوران انہوں نے اپنے خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے سوا کسی دیگر فرد کے سامنے اپنے چہرے سے پردہ نہیں ہٹایا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.