5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
سیلابی پانی شہداد کوٹ کے نواحی علاقوں میں پہنچ گیا، کوٹری پر پانی کا دباؤ
جنگ نیوز -
حیدرآباد… لاڑکانہ، خیرپور، کوٹری، دادو اور نواب شاہ سمیت سندھ میں دریائے سندھ کے اکثر پشتوں اور کوٹری بیراج پر سیلاب کا شدید دباؤ ہے۔ٹھٹھہ کے علاقے راجو نظامانی میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے جبکہ شہدادکوٹ کے نواحی علاقوں میں شہر کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔کوٹری بیراج میں اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث آمری،کھانوٹ اور بڈاپور کے قریب ریلوے ٹریک سمیت درجنوں دیہات زیر آب آنے کے کراچی اور کوئٹہ کے درمیان ٹرین سروس بدستور معطل ہے۔مٹیاری کے قریب باؤ ڈیرو، جاکھری، سیکھاٹ اورگلیان بند کے مقام پر پانی کے رساؤ کی وجہ سے مقامی آبادیوں میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔ٹھٹھہ کے علاقے جھرک میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ کرنے کے بعد سیلابی پانی راجو نظامانی میں داخل ہوگیا ہے۔علاقے کے بیشتر لوگ پہلے ہی نقل مکانی کرچکے ہیں تاہم اب بھی سیکڑوں افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ادھر شہدادکوٹ شہر کو سیلاب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔سیلاب کے باعث تحصیل شہدادکوٹ کے گیارہ سو دیہات زیرآب آچکے ہیں جن میں سے چھ سو دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔شہداد کوٹ شہر کے قریب حفاظتی بند کے نیچے آب پاشی کے مقاصد کے لئے لگائے گئے پائپ سات جگہوں سے پھٹنے کے بعد سیلاب گوٹھ دریاخان مستوئی کے بعد شہر کے علاقے محلہ الن فقیر تک پہنچ گیا ہے۔تاہم مقامی افراد اور محکمہ آبپاشی کے اہلکار شہر کو سیلاب سے بچانے میں مصروف ہیں۔دوسری جانب ڈی سی او آفس دادو میں سیلاب سے متعلق ہونے والے اجلاس میں حمل جھیل کے پانچوں دروازے ہنگامی بنیادوں پر بندکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔