5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:45
جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم،3طلبہ جاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی…جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں3طلبہ جاں بحق اور 9زخمی ہوگئے ہنگامہ آرائی کے دوران50سے زائد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے جبکہ ایک موٹرسائیکل کو بھی نذرآتش کردیا گیا ۔ مسلح تصادم کے بعد جامعہ کراچی میں تدریسی عمل دوروز کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔جامعہ کراچی میں منگل کو صبح سے ہی کشیدگی پائی جاتی تھی اور دوپہر میں آرٹس لابی میں دونوں طلبہ تنظیموں کے مابین تصادم بھی ہوا جس میں ایک کارکن لاٹھی لگنے سے زخمی ہوا تاہم مسلح تصادم کا آغاز منگل کی شام کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ سے ہوا جہاں دونوں طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر زبردست فائرنگ کی۔ فائرنگ سے بی ایس کاطالبعلم محمد راعمیش موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ اسامہ بن آدم ، عبدالجبار، معاذ، محمد سمیع، ابصار، فہد،قاسم ، نعمان،عمیر، کاشف اور علی اسد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر گلستان جوہر میں واقع نجی اسپتال لے جایا گیا جہاں دوران علاج اسامہ بن آدم اور عبدالجبار چل بسے، اس موقع پر اسپتال کے باہر بھی دونوں طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی جس سے خوف وہراس پھیل گیا ۔ نجی اسپتال سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو عباسی شہید اور جناح اسپتال پہنچایا گیا ۔ عباسی شہید اسپتال کے باہر بھی دونوں طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جامعہ کراچی میں تصادم کے دوران مشتعل طلبہ نے50سے زائد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اورکیفے ٹیریا کے سامنے ایک موٹرسائیکل کو بھی نذرآتش کردیا ۔ طلبہ کے ایک گروپ نے ایڈمنسٹریشن بلاک میں زبردست توڑ پھوڑ کی ۔تصادم جس وقت ہوا جامعہ کراچی میں ایوننگ کلاسزجاری تھیں اور طلبہ اپنے ڈپارٹمنٹس میں محصور ہوکر رہ گئے ، طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد جامعہ کراچی کے تینوں دروازوں پر جمع ہوگئی جو اپنے بچوں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ مسلح تصادم کے دوران جامعہ کراچی میں رینجرز بے بس نظر آئی ۔