1 جولائی 2011
وقت اشاعت: 13:43
مالی سال 2011-2010:ملکی اقتصادی حالت زوال پذیررہی
آج نیوز - حکومتی دعوؤں کے باوجود ملکی اقتصادی حالت مسلسل زوال پذیر ہے۔ مالی سال دوہزار دس دوہزار گیارہ میں صنعتی ترقی صفرسے بھی کم رہی، چاول اورگندم کی بمپرفصلوں کے باوجود زرعی پیدوار کا ہدف بھی حاصل نہ ہوسکا۔مالی سال دوہزار دس دوہزار گیارہ بھی گذشتہ برسوں کی مانند اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ کر سکا، مالی سال کے آغاز پر ہی حکومت کو قیامت خیز سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نقصان کا اندازہ دس ارب ڈالر لگایا گیا، تاہم ملکی اور غیرملکی امداد سے معیشت کو سہارا ملنے کے بجائے انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوگئی۔
سیلاب کے باعث جہاں بعض فصلوں کو نقصان پہنچا، وہیں چاول اور گندم کی بمپر کراپ کے باوجود زرعی ترقی کا ہدف اس سال بھی حاصل نہ ہو سکا۔ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبوں کی افزائش منفی اکیس فیصد رہی۔ توانائی کے بحران، دہشت گردی، امن و امان کی مخدوش صورتحال اور غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی نے صنعتی ترقی کو متاثر کیا، صنعتی شعبے نے صفر اعشاریہ ایک فیصد کی رفتار سے ترقی کی۔ دوہزار دس دوہزار گیارہ کے دوران سارا سال عوام مہنگائی کی دہائی دیتے رہے لیکن یہاں بھی حکومت کی کارکردگی صفر رہی۔ افراط زر کی شرح ساڑھے نو فیصد کے ہدف کے مقابلے میں پندرہ فیصد رہی۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں کے علاوہ آئے دن آٹا، چینی، گھی، تیل اور دال سمیت ہر چیز پر دام بڑھتے رہے لیکن حکومت کا کردار صرف تماشائی کا رہا۔
مالی سال کے دوران کفایت شعاری اپناتے ہوئے حکومت نے اخراجات میں نام نہاد کمی کی، سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی کی گئی اور ٹیکس وصولی کے ہدف پر دوبار نظرثانی بھی کی، اس کے باوجود محصولات کا نظرثانی شدہ ہدف حاصل نہ ہوسکا اور نتیجہ ساڑھے پانچ فیصد مالیاتی خسارے کی صورت میں سامنے آیا۔ بیروزگار نوجوانوں کے لئے بھی مالی سال دوہزار گیارہ کوئی نوید نہ لاسکا اور ملکی آبادی کے پانچ اعشاریہ چھ فیصد نوجوان بیروزگار رہے۔ مالی سال دوہزار دس دوہزار گیارہ میں ملکی معیشت نے صرف دو اعشاریہ چار فیصد ترقی کی۔ معاشی حقائق کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت صرف اقتصادی محاذ پر ڈٹ کر کام کرتی تو ترقی کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہوتی لیکن افسوس۔
صفدر عباس،کراچی