22 جولائی 2011
وقت اشاعت: 7:23
کے ای ایس سی ملازمین کا گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا موٴخر
آج نیوز - کے ای ایس سی کے برطرف ملازمین نے گورنر ہاوٴس کے باہر احتجاجی دھرنا پیر تک موٴخر کردیا۔ مکمل تحفظ کی ضمانت پر کے ای ایس سی نے فیلڈ آپریشن بحال کردیا۔ منظور وسان کہتے ہیں اب کوئی ڈیڈلاک نہیں ہوگا، نتیجہ لازمی نکلے گا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے جمعرات کو کے ای ایس سی کے احتجاجی ملازمین اور انتظامیہ سے الگ الگ ملاقات کی۔ مزدوروں کے وفد نے گورنر سندھ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ مزدورں نے سرپلس پول ختم کرنے، احتجاجی ملازمین کی سابقہ حیثیت پر بحالی اور جبری برطرفی روکنے کا مطالبہ کیا۔ گورنر کی طرف سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد رہنماوں نے گورنر ہاوٴس کے باہر دھرنا ختم کرکے شرکاء کو پریس کلب کے باہر پنڈال میں منتقل کردیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ مسائل حل نہیں ہوئے تو وہ اور گورنر مزدوروں کے ساتھ ہونگے۔ سی بی اے کے چیئرمین اخلاق احمد نے مزدوروں سے خطاب میں کہا کہ اگر پچیس جولائی تک مزدوروں کے مسائل حل نہ ہوئے تو راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔ گورنر سندھ نے تابش گوہر اور کے ای ایس سی کے دیگر افسران سے مذاکرات میں مزدوروں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔ تابش گوہر نے کمپنی کی پالیسی واضح کرنے کے لئے گورنر سے چوبیس گھنٹے کی مہلت مانگ لی۔ گورنر سندھ نے واضح کیا کہ اگر کے ای ایس سی کی مقامی انتظامیہ معاملات کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں تو وہ خود ابراج کیپیٹل مالکان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ تابش گوہرکے مطالبے پر عملے اور املاک کی حفاظت کے لیے پولیس اور رینجرز تعینات کرنے کے بعد فیلڈ آپریشن بحال کردیا گیا۔