2 اگست 2011
وقت اشاعت: 19:17
کراچی میں مقامی اور مہاجر کے درمیان تقسیم نہیں چاہتے،گیلانی
آج نیوز - قومی اسمبلی میں آج بھی موضوع بحث کراچی کی صورتحال رہی، اپوزیشن نے احتجاج کیا اور ایم کیو ایم نے احتجاجاً علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ کراچی میں مقامی اور مہاجر کے درمیان تقسیم نہیں چاہتے، ہجرت کرنے والوں کا احترام کرتے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے عبدالقادرپٹیل اس بات پر یکسو نظرآئے کہ ایم کیو ایم حقیقی کو ایک حقیقت تسلیم کیے بغیرکراچی میں امن ممکن نہیں۔ایوان زیریں کے اجلاس نجی کارروائی کا دن منسوخ کر کے کراچی کی صورتحال پر بحث کرائی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے کراچی میں قتل و غارت گری پر سخت احتجاج کیا،ن لیگ کے رانا نویدالحسن کا کہنا تھا کہ حکمران ملکی سالمیت سے کھیل رہے ہیں،خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر لسانی طور پر کراچی کی تقسیم کی گئی تو دوسری بار ملک کی تقسیم کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہو گی،حکومت معاملات نہیں سنبھال سکتی تو استعفیٰ دے۔ حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کراچی میں پیزا پہلے اور ایمبولینس بعد میں پہنچتی ہے،حکومت سنجیدہ نہیں اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو برداشت ختم ہو جائے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کراچی میں قیام کے لئے امن کمیٹی قائم کر دی ہے، جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی،حکومتی رکن عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کراچی میں روز بروز حکومت کی رٹ کم سے کم ہوتی جارہی ہے،سٹی ڈسٹرکٹ حکومت کے ذریعہ کراچی پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا،شہر میں امن کیلئے ایم کیو ایم حقیقی ،جماعت اسلامی اور سنی تحریک سمیت دیگر سیاسی قوتوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کراچی میں مقامی اور غیر مقامی افراد کے درمیان فریق بننے کی بات درست نہیں،بلوچستان کے ناراض لوگوں سے بات فوج نہیں سیاسی حکومت اور سیاسی قوتیں کریں گی۔