4 اگست 2011
وقت اشاعت: 1:11
پاور موٹرز کی عدم دستیابی ،بحران میں شدت
آج نیوز - پاکستان ریلوے میں مکمل پاور موٹرز کے انجن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ٹرینوں کا بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ یومیہ ایک سو نوے شیڈول ٹرینوں کیلئے دو سو تیس انجن درکار ہیں۔پاکستان ریلوے کے پاس کل انجنوں کی تعداد پانچ سو چھتیس ہے، جن میں سے صرف ایک سو چالیس قابل استعمال ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں پرانے انجنوں کی مرمت نہ ہونے پر اب بیشتر یارڈز میں خراب کھڑے ہیں۔ ریلوے انجنز میں دو، چار یا چھ پاور یونٹ ہوتے ہیں، جو بوگیوں کی تعداد اور وزن کے حساب سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ کراچی سے پشاور جانے والی ٹرینوں میں کم از کم پانچ انجن درکار ہوتے ہیں، ان کو روہڑی، ملتان، لاہور اور راولپنڈی اسٹیشنوں پر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ حکام اب کم پاور کے دستیاب انجن استعمال کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یومیہ ایک سو نوے ٹرینوں کے شیڈول کیلئے کم از کم دو سو تیس انجن درکار ہیں۔ زرائع کے مطابق ایک ارب روپے سے ایک سو خراب لوکو موٹوز، اور دو ارب روپے سے اڑھائی سو انجن ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ کراچی سمیت مختلف انجن یارڈز میں کم پاور کے انجن استعمال کرنے سے گاڑیوں کی رفتار اور بوگیوں میں موجود پنکھوں اور بجلی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ جس سے مسافروں اور عملے میں جھگڑے ہوتے ہیں
رسالپور لوکوموٹو فیکڑی اور مغلپورہ ورکشاپ میں ماہانہ صرف بارہ انجن بحال کرنے کے انتظامات موجود ہیں، حکومتی ترجیحات کی تبدیلی تک درکار انجنز کی فراہمی ناممکن نظر آتی ہے۔