4 اگست 2011
وقت اشاعت: 14:52
ن لیگ کا لوڈشیڈنگ کیخلاف قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ
آج نیوز - قومی اسمبلی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ریلوے سمیت اداروں کی تباہی کے خلاف اپوزیشن کا واک آؤٹ، مسلم لیگ ن نے کراچی کی صورتحال پر ایوان میں سیکورٹی اداروں کی بریفنگ کامطالبہ کردیا۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے حق میں نہیں، غریبوں کے خون پر سیاست کی جا رہی ہے۔اسپیکر فہمیدہ مرزا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی کی صورتحال پر بحث جمعرات کو بھی جاری رہی۔ حنیف عباسی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کرپشن میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، رحمان ملک کے ہوتے ہوئے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ وسیم اختر اور ساجد احمد نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم حقیقی ایک حقیقت ہے تو پھر غنوی بھٹو، فاطمہ بھٹو اور صفدر عباسی بھی ایک حقیقت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے اقلیتی افراد کو زمینوں پر قبضے کیلئے اغوا کیا جا رہا ہے، ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا تو انجام بنگلہ دیش جیسا ہوگا۔ امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ حکومت کراچی میں امن قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تنقید بلا جواز ہے، مسلم لیگ ن کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امتیاز صفدر اور عابد شیرعلی میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ کراچی کی صورتحال پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ غریبوں کے خون پر سیاست کی جا رہی ہے ہم کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے حق میں نہیں۔ فوج کو بلانے کا مطلب سول انتظامیہ کی ناکامی تسلیم کرنا ہے۔ پختون کو پنجابی اور مہاجر کو سندھی سے لڑایا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج عملاً مارشل لاء نافذ ہے۔ حقوق کی باتیں کرنے والوں کو باغی قرار دیدیا جاتا ہے۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ کراچی اور بلوچستان میں گوررننس نہیں ہے اور گورننس کی موت معاشرے کی موت ہوتی ہے۔ ن لیگ نے ایوان میں سیکورٹی اداروں کی بریفنگ کا اہتمام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ریلوے سمیت دیگر اداروں کی تباہی کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اجلاس اب جمعہ کی صبح ساڑھے دس ہوگا۔