5 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:4
شرجیل میمن نے ذوالفقار مرزا کو بیان دینے سے روک دیا
آج نیوز - شرجیل میمن نے ذوالفقار مرزا کو بیان دینے سے روک دیا، سابق وزیر کہتے ہیں آج وہ کتنے مظلوم ہوگئے۔وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی جانب سے دیئے گئے عشائیے اور افطار میں تین شخصیات بہت مشکل کا شکار رہیں۔ وہ بات کرنا بھی چاہتے تھے اور محتاط بھی تھے۔تقریب میں ذوالفقار مرزا جوں ہی نمودار ہوئے تو انہیں دیکھتے ہیں میڈیا چہک اٹھا۔ اب ذوالفقار مرزا تھے اور میڈیا کا گھیرا۔ کیمرے کے سامنے ذوالفقار مرزا بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ ان کے لیے بات کرنا آج جتنی مشکل تھی پہلے کبھی نہ تھی وہ کچھ کہنا بھی چاہتے تو ایک دیوار ان کے سامنے حائل تھی اور یہ دیوار تھی صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کی۔ جو بار بار میڈیا سے کہہ رہے تھے۔ آج رہنے دو لیکن میڈیا تھا کہ ان سے بات کرنے پر تلا بیٹھا تھا اور شرجیل میمن بھی ہرطرف سے چوکس،اسے کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کے پیتا ہے لیکن وہ مرزا ہی کیا جو تقریب میں چپ رہیں۔ بالآخر مرزا صاحب نے کہہ ہی دیا کہ آج اگر ان کے ہاتھ میں چھڑی ہوتی تو یہ دیوار گر ہی جاتی۔شرجیل کی بے بسی بھی خوب تھی وہ بار بار میڈیا کی طرف آتے ، منع کرتے اور یہ کہتے رہے، افطار ہوجانے دو، آج رہنے دولیکن وہ میڈیا ہی کیا جو مرزا سے بات کیے بغیر ہٹ جائے مرزا نے کچھ تکلف بھرتا اور پھر موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کہہ ہی ڈالا، رمضان صبر کا درس دیتا ہے۔مرزا نے جوں ہی بات ختم کی تو شرجیل میمن نے سکون کا سانس لیا۔ ان کے چہرے پر اطمینان بھی نظر آیا اور سکون بھی۔اس تقریب میں ایک اور شخصیت اے این پی کے رہنما شاہی سید کی بھی تھی۔ میڈیا نے ان سے بات کرنا چاہی اور ان سے چبھتے ہوئے سوال بھی کر ڈالے لیکن اس بار شاہی سید بھی خاصے گھاگ ثابت ہوئے سارے تیر پسپا کردیئے۔