تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
8 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:55

کمشنری نظام کا خاتمہ: سندھ میں شٹرڈاؤن، وکلاء کا عدالتوں کا بائیکاٹ

آج نیوز - صوبے بھر میں بلدیاتی نظام کا یکساں نظام بحال کئے جانے کے باوجود قوم پرستوں کی اپیل پرآج اندرون سندھ اور کراچی کے بعض علاقوں میں ہڑتال ہے۔ سندھ کے قوم پرست رہنماؤں نے مقامی حکومتوں کا نظام دو شہروں میں نافذ کرنے کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی تھی اور اسے سندھ کی تقسیم کی سازش قرار دیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف اندرون سندھ مکمل شٹر ڈاؤن ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پٹرل پمپس اور سی این جی اسٹیشن بھی بند ہیں۔ جامشورو میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی سمیت تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ شکار پور میں خان پور، گڑھی یاسین، مدیجی، ڈکھن، سلطان کوٹ اور ہمایوں میں مکمل ہڑتال ہے اور کاروباری مراکز مکمل طورپر بند ہیں۔ شہدادکوٹ، نصیر آباد، ووگن بہرام وارہ اورمیرو خان میں مکمل شٹر ڈان ہے۔ قوم پرست جماعتوں کے کارکنان نے کوٹو موٹو چوک پردھرنا دیا اور ٹائرنذرآتش کیے۔ میرپورخاص میں اندرون سندھ سمیت دوسرے شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ بند کر دی گئیں۔ عمر کوٹ میں ہنگامہ آرائی کے الزام کے پانچ افراد گرفتارکر لیے گئے۔ وکلاء نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور بار سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔ لاڑکانہ میں پولیس نے گیارہ مظاہرین گرفتار کر لیے۔ سکھر اور نو شہرو فیروز میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ ٹھٹھہ، مٹھی میرپور بٹھورو، سجاول،گھارو، جاتی اور دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈاؤن رہا۔ کراچی کے بعض علاقوں میں جزوی ہڑتال ہے۔ صفورا گوٹھ، سچل گوٹھ اور اطراف کے علاقوں میں دکانیں، پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشن بند ہیں، شہر کے دیگر علاقوں میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ آج صبح لیاری کے علاقے آگرہ تاج میں نامعلوم شرپسندوں نے دو گاڑیاں نذرآتش کردیں۔ ملیر بار کے وکلاء نے بھی کمشنری نظام ختم کرنے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.