9 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:45
کمشنری نظام کے خاتمے پرپیپلزپارٹی دفاعی پوزیشن پر
آج نیوز - سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی اور پھر خاتمے نے پیپلز پارٹی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے اور قوم پرست فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے وزرا نے اعتراف کیا ہے کہ شہری حکومت کا نظام صرف دو شہروں میں نافذ کرنا غلطی تھی۔ کمشنری نظام کو اب بھی بہتر سمجھتے ہیں لیکن سیاسی مصلحت کی وجہ سے خاموش ہیں۔کمشنری نظام کا خاتمہ کیا ہوا، پیپلزپارٹی کی قیادت اور وزرا نے دفاعی پوزیشن لے لی ہے۔بلدیاتی نظام کاآرڈیننس جاری ہونے پر ناراض بھی ہیں اور ٹھیک سے اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتے۔وزیرداخلہ سندھ منظوروسان کہتے ہیں پیپلزپارٹی اب بھی کمشنری نظام کے خلاف ہے مگرمصلحت کے تحت خاموش ہے۔ کراچی میں امن کے لیے ایکشن کا اختیار ہے لیکن اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن نے بھی وضاحتیں پیش کرنے کے لیے پریس کانفرنس کرڈالی۔کہتے ہیں پیپلزپارٹی اب بھی کمشنری نظام کو بہتر سمجھتی ہے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی خامیاں مشاورت سے دور کریں گے اور اس مقصد کی لیے ترامیم کی جائیں گی،قوم پرست جماعتوں کی جانب سے احتجاج پر بھی شرجیل میمن ناراض نظر آئے لیکن ساتھ ہی ساتھ کمشنری نظام کے خاتمے پر وہ خود بھی افسردہ تھے۔ کہتے ہیں شہری حکومت کا نظام صرف دو شہروں میں نافذ کرنا غلطی تھی،شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ملک چلانے کیلئے مفاہمت برقرار رکھنا چاہتے ہیں،جب تک پیپلزپارٹی کاایک بھی کارکن زندہ ہے سندھ کی تقسیم نہیں ہو سکتی ہے۔