10 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:56
مانچسٹر:فسادات، گاڑی کی ٹکر سے تین پاکستانی جاں بحق
آج نیوز - برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ گلیوں میں خوف کا کلچرپھیلنے نہیں دیں گے،ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف پانی کی توپیں یعنی واٹرکینن استعمال کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ تہذیب یافتہ شہرلندن تین دن کی ہنگامہ آرائی کے بعد نسبتاً پرسکون ہوچکا ہے تاہم مانچسٹراوربرمنگھم سمیت شمالی علاقوں میں ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ فسادات کے دوران مانچسٹرمیں تین پاکستانیوں کو کارسے ٹکر مارکرہلاک کردیا گیا۔برطانیہ کا دارالحکومت لندن کئی روزسے عالمی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں نمایاں ہے،برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون پرشدید سیاسی اورعالمی دباؤ ہے،انہوں نے مزید دس ہزارپولیس اہلکارلندن میں تعینات کرنے کے احکامات دئیے جس کے بعدلندن قدرے پرسکون ہوگیا ہے، برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ برطانیہ کی گلیوں میں خوف کا کلچر پھیلنے نہیں دیں گے،ہرحال میں قانون کی رٹ قائم کی جائے گی اور اس کیلئے ہرآپشن موجود ہے۔برمنگھم میں محمد شکیل اور ہارون جہاں سمیت تین پاکستانیوں کے قتل کی تحقیقات شروع ہوگئی ہیں،اس سلسلہ میں ایک بتیس سالہ شخص کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے،تینوں پاکستانی آزادکشمیر کے علاقہ میرپورکے رہائشی ہیں۔ یہ پاکستانی ہنگامہ آرائی کے دوران کمیونٹی کی حفاظت کررہے تھے کہ اچانک تیزرفتارکارتینوں کو کچل کرفرار ہوگئی۔ ان شہروں سمیت ملک کے شمالی علاقوں میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ مانچسٹرمیں ایک گروہ نے گرل فیشن اسٹور کو نذرآتش کردیااور شاپنگ مال میں توڑ پھوڑ کی۔ حکومت نے پولیس کوواٹرکینن اورربربلٹ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے۔ اب تک گیارہ سو سے زائد افراد گرفتارکیے جاچکے ہیں۔ اب تک ہنگامہ آرائی میں ایک سو گیارہ سرکاری افسران اور چودہ عام شہری زخمی ہوچکے ہیں۔