11 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:53
پن بجلی منصوبوں سے پاکستان اضافی بجلی پیدا کر سکتا ہے، رپورٹ
آج نیوز - قدرت نے پاکستان کو پانی کی نعمت سے مالا مال کررکھا ہے۔ پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر کا کام بروقت شروع کرکے چھ سال میں اٹھائیس ہزار میگا واٹ اضافی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اس وقت بجلی کا زیادہ سے زیادہ شارٹ فال چھ سے آٹھ ہزار میگا واٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع کے علاوہ اگر پن بجلی کے چھبیس منصوبوں پر بروقت کام شروع کردیا جائے تو اگلے چھ سال میں سینتیس ہزار تین سو بارہ میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اس حوالے سے پن بجلی کے بارہ منصوبوں کے کارآمد ہونے سے متعلق جائزہ رپورٹیں تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔ پیپکو کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھاشا ڈیم کے مقام کا دورہ کرایا گیا۔ انجینئرز کا کہنا تھا کہ بھاشا اور نیلم جہلم جیسے پن بجلی کے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لئے پانچ سے چھ برس کا وقت درکار ہو گا۔ پن بجلی کے مکمل ہونے والے تین منصوبوں دوبر خاور، خان خاور اور علیا خاور کی مجموعی طور پر تین سو چوبیس میگاواٹ بجلی ایک روپے پچیس پیسے فی یونٹس سے بھی کم لاگت پر حاصل کی جارہی ہے۔ پن بجلی کے ایسے منصوبوں پر عملدرآمد کرکے بجلی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔