11 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:8
ْپنجاب اسمبلی اجلاس سرائیکی صوبے کے حوالے سے اہمیت اختیار کرگیا
آج نیوز - ْپنجاب اسمبلی کا جاری اجلاس سرائیکی صوبے کے حوالے سے اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ق لیگ نے اپنی حلیف جماعت پیپلزپارٹی اور ضیاء لیگ نے اپنی حلیف ن لیگ کی مشاورت کے بغیر قراردادیں جمع کرا دی ہیں۔ جنوبی پنجاب کو سرائیکی یا کسی اور نام سے الگ صوبہ بنانے کا ایشو ملک بھر میں زیربحث ہے، مگر حریفوں کے درمیان اس ایشو پر پہلی تفصیلی بحث پنجاب اسمبلی میں ہوگی۔ جس کے لئے تمام جماعتوں نے حکمت عملی طے کرلی ہے۔ جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبہ بنانے کی نمایاں دعویدار پیپلزپارٹی ہے، جس کے سینئر رہنماؤں نے گذشتہ ایک ماہ سے لاہور میں مہم شروع کر رکھی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے مشترکہ قرارداد لانے کی تیاریاں شروع کر رکھی تھیں مگر اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو اسوقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جب ان کی حلیف ق لیگ کے چوہدری ظہیر الدین نے انہیں اعتماد میں لئے بغیر نئے صوبے کی قرارداد اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کرادی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے صرف پنجاب نہیں، ملک بھر میں انتظامی لحاظ سے صوبے بنانے کیلئے وفاقی سطح پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن پنجاب میں ان کی حلیف مسلم لیگ ضیاء کے رکن صوبائی اسمبلی شاہد انجم نے بہاولپور صوبہ بنانے کی قرارداد جمع کرادی ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق کسی بھی الگ صوبے کے لئے موجودہ اسمبلی کی دوتہائی اکثریت ہی قرارداد منظور کرکے وفاق کو بھجوا سکتی ہے مگر حکمران اور اپوزیشن اتحاد کے اندر قراردادوں کے نام پر موجود اختلاف حالیہ اجلاس میں بحث کو نیا رنگ دے سکتا ہے۔