17 اگست 2011
وقت اشاعت: 15:50
این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش
آج نیوز - این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کا سربراہ ہوں، جونیئر کے تحت کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ مستعفی ہونے کی دھمکیاں نہ دیں، جا کر کیس کی تفتیش مکمل کریں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے تحسین انور شاہ نے این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا لاہور آفس میں بم کی افواہ پھیلانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر خواجہ حماد نے بتایا کہ ڈائریکٹر وقار حیدر نے ان سے کہا کہ ظفر قریشی کو دفتر آنے سے روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان پر بڑا دباؤ ہے۔ ظفر قریشی کی تحقیقاتی ٹیم کے ارکان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر تفتیش نہ کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں اور ان کو چھٹی کے لیے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ اس موقع پر بابر اعوان مونس الٰہی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مئوکل کو ظفر قریشی پر اعتماد نہیں، ظفر قریشی الزام لگا چکے ہیں کہ ان کو مونس الٰہی سے جان کا خطرہ ہے لہٰذا ایسا افسر غیر جانبدارانہ انکوائری نہیں کر سکتا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ظفر قریشی کو تفتیش سونپنے کا معاملہ نمٹا لیں پھر اسے دیکھیں گے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کا سربراہ ہوں،جونیئر کے ماتحت بن کر کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مستعفی ہونے کی دھمکیاں نہ دیں ، جا کر کیس کی تفتیش مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ استعفیٰ مجاذ اتھارٹی کو پیش کریں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام افراد انکوائری میں ظفر قریشی سے تعاون کریں۔این آئی سی ایل کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔