19 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:50
کراچی میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، رپورٹ
آج نیوز - کراچی میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ گزشتہ روز تاجروں نے بھی اس مطالبہ کی تائید کی جب کہ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت فوج طلب کرسکتی ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری کس طرح روکی جائے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر شخص اپنی فہم و فراست اور مفاد کے عین مطابق دیتا ہے۔ کوئی مذاکرات اور مفاہمت کی بات کرتا ہے اور کوئی بے رحم آپریشن کی۔ لیکن حالیہ دنوں میں سب لوگ ایک نکتہ کی طرف بڑھے ہیں اور وہ ہے شہر میں فوج کی طلبی۔ حکمراں اتحاد میں شامل اور پیپلز پارٹی کی اچھے برے دن کی ساتھی عوامی نیشنل پارٹی تو عرصہ دراز سے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کررہی ہے۔ سندھ کے ساتھ اے این پی خیبر پختونخوا کی قیادت بھی فوج بلانے پر اصرار کررہی ہے۔ لیکن متحدہ قومی موومنٹ اس کے حق میں نہیں تھی کچھ عرصہ پہلے ایم کیو ایم کی قیادت نے بھی فوج طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ابھی تک اس کی مخالف ہے۔ پی پی کے لیاری سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے جب ایک ٹی وی ٹاک شو میں فوج بلانے کا مطالبہ کیا تو پارٹی قیادت ان سے ناراض ہوگئی۔ ان کے ٹی وی پر آنے پر پابندی لگادی گئی اور آج تک وہ معتوب ہیں۔ قوم پرست بھی کراچی میں فوجی کارروائی کے حامی ہیں اور حالیہ دنوں میں انہوں نے یہ مطالبہ نہایت شدو مد سے دہرایا ہے۔ گزشتہ روز کراچی کے تاجروں نے بھتہ خوروں کے خلاف احتجاجًا کاروبار بند کیا اور دھرنا دیا۔ اس دوران تاجر رہنماؤں نے بھی کراچی میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ کراچی میں اگر فوج طلب کی گئی تو یہ پہلی بار نہیں ہوگا۔ ایوب کے انتخاب کے وقت ان کے بیٹے گوہر ایوب کے جلوس کے بعد فوج طلب کی گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انیس سو ستتر میں جن تین شہروں میں مارشل لاء لگایا تھا ان میں کراچی بھی شامل تھا اور پھر نواز شریف کے دور میں جنرل آصف نواز کا فوجی آپریشن تو تازہ بات ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح مسئلہ حل ہوجائے گا۔