22 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:35
لیبیا: طرابلس پر باغیوں کا قبضہ، صدارتی محل نذر آتش کر دیا
آج نیوز - لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پرباغیوں کا قبضہ، صدارتی محل نذرآتش کر دیا گیا، مختلف شہروں میں جشن، قذافی کے بیٹے محمد سعد گھر میں نظربند، معمرقذافی آڈیو پیغام کے بعد غائب ہو گئے۔ لیبیا میں باغیوں نے طرابلس پر قبضہ کرلیا۔ مختلف شہروں میں مخالفین کا جشن جاری ہے۔ عوام سے طرابلس کی حفاظت کرنے کی اپیل کے آڈیو پیغام کے بعد معمر قذافی لاپتہ ہوگئے۔ باغیوں نے قذافی کے دو بیٹوں کو حراست میں لے لیا۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ قذافی کا دور ختم ہوگیا، لیبیا کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے۔ معمر قذافی نے اپنے آڈیو پیغام میں کہا کہ لیبیا کے عوام طرابلس کو باغیوں سے پاک کردیں۔ عوم طرابلس کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ معمر قذافی کی حکومت نے باغیوں کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔ لیکن باغی اس بات پر ڈٹے تھے کہ اقتدار سے علیحدگی تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ باغیوں کا قافلہ جیسے ہی طرابلس کے گرین اسکوائر پہنچا تو لیبیا کے مختلف شہروں میں جشن شروع ہوگیا۔ نیٹو ترجمان کا کہنا تھا کہ قذافی کو جلد احساس ہوجائے گا کہ وہ عوام سے نہیں جیت سکتے۔ تنازعہ پیدا کرنے کی تمام تر ذمہ داری قذافی پر عائد ہوتی ہے۔ نیٹو نے قومی عبوری کونسل کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی کا اظہاربھی کیا۔ لیبیائی حکومت کے ترجمان موسی ابراہیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے باغیوں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اور باغی معصوم لوگوں کو قتل کررہے ہیں۔ لڑائی سے صرف تباہی ہوگی، باغی رہنما معمر قذافی سے مذاکرات کریں۔ معمر قذافی کے گرفتار ہونے کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ طرابلس کے زیادہ تر علاقوں پر باغی قبضہ جما چکے ہیں۔ مخالفین نے صدارتی محل پر حملہ کردیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ قذافی کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔ معمر قذافی کو اب جانا ہوگا۔ امریکی صدر اوباما کا کہنا ہے کہ قزافی کا دور ختم ہوگیا لیبیا کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے۔ قذافی جان لیں انھیں ہر حال میں جانا ہوگا۔