22 اگست 2011
وقت اشاعت: 6:51
حضرت علی کے علم کو اپنا کر دین کی راہ اپنائی جا سکتی ہے، رپورٹ
آج نیوز - دنیا بھر کے مسلمان آج حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یوم شہادت منارہے ہیں۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علم و افکار کی روشنی اپنا کر دین کی خدمت اور انسانیت کی بہتری کی راہ اپنائی جاسکتی ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ تیرہ رجب سن تیس عام الفیل کو کعبتہ اللہ میں پیدا ہوئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ نے آنکھ کھولی اور پوری زندگی پیغمبر اسلام کی زیر تربیت رہے۔ علماء کرام کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کم سے کم انیس اور زیادہ سے زیادہ ستائیس غزوات ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صرف غزوہ تبوک کے علاوہ تمام جنگوں اور غزوات میں حصہ لیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو احد کے میدان میں ذوالفقارنامی تلوارعطاکی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیہا کا عقد حضرت علی سے کیا اور انہیں اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا۔ اٹھارہ رمضان المبارک سن چالیس ہجری کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی چھوٹی بیٹی ام کلثوم کے گھر آخری افطار کیا اور انیس رمضان المبارک کو مسجد کوفہ میں فجر کی اذان دی۔ نماز کی پہلی رکعت کا پہلا سجدہ تھا جس وقت عبدالرحمن ابن ملجم نے زہر آلود تلوار سے آپ کے سر پر زوردار وار کیا۔ کوفہ شہر امیر المومنین کی اس آواز سے گونج اٹھا، خدا کی قسم آج علی کامیاب ہوگیا۔ حضرت علی ابن ابی طالب کا مزار عراق کے شہر نجف اشرف میں ہے جہاں روزانہ ہزاروں زائرین اپنی حاجات لے کر آتے ہیں اور فیضیاب ہوتے ہیں۔