16 جولائی 2012
وقت اشاعت: 12:44
اصغر خان کیس: آئی ایس آئی سیاسی سیل کو کالعدم قرار
آج نیوز - سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی سیاسی سیل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اکتیس جولائی کے فیصلے کے بعد سیاسی سیل کام نہیں کر سکتا، چیف جسٹس کہتے ہیں ریاستی امور صرف آئین کے تحت ہی چل سکتے ہیں، وزیر اعظم سمیت سب کے نوٹس میں لائیں کہ سیاسی سیل تھا تو بھی کام نہیں کرسکتا۔ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق اصغر خان کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر اور سیکریٹری دفاع نرگس سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ تلاش کے باوجود آئی ایس آئی سیاسی سیل کے قیام سے متعلق نوٹیفیکیشن نہیں ملک سکا، نرگس سیٹھی نے کہا کہ نوٹیفیکیشن مزید تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو سیاسی سیل کے قیام سے متعلق سمری کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تمام چیزیں شفاف ہوکر سامنے آئیں، اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا، اکتیس جولائی دوہزار نو کو سپریم کورٹ نے بہت واضح فیصلہ دیا، اس فیصلے کے بعد سیاسی سیل کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وزیر اعظم سمیت سب کے نوٹس میں لائیں کہ سیاسی سیل تھا تو بھی کام نہیں کر سکتا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے استفسار کیا کہ کیا اکتیس جولائی کے فیصلے میں یہ لکھا ہوا ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جی اس فیصلے میں لکھا ہوا ہے، اسے پڑھ لیں۔ کیس کی سماعت کے دوران مختلف مواقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ریاستی امور صرف آئین کے تحت ہی چل سکتے ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت دو ہفتوں کے بعد ہوگی۔