تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
17 جولائی 2012
وقت اشاعت: 18:3

میانمار: ڈیڑھ ماہ میں 20 ہزارمسلمان قتل، 10 ہزار لاپتہ

آج نیوز - میانمار میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ ڈیڑھ ماہ کے دوران بیس ہزار روہینگا مسلمان قتل ، دس ہزار لاپتہ ہوئے، پانچ ہزار خواتین کو جنسی تشدد کانشانہ بنایا گیا جبکہ نوے ہزار نے نقل مکانی کی۔ لیکن امریکا اور نہ ہی مغربی میڈیا سمیت کسی عالمی تنظیم نے اس سارے معاملے پر توجہ دی۔ انتہا پسندی کا لفظ خواہ مخواہ مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔ میانمار میں تین جون دو ہزار بارہ کے دن بدھ مت لڑکی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ واقعہ کے بعد میانمار کے شہر اراکان میں جیسے آگ بھڑک اٹھی۔ افواہ نے بدھ مت انتہا پسندوں کو للکارا اور وہ ہوش کھو بیٹھے۔ بدھ مت انتہا پسندوں نے بس میں سوار سات مسلمانوں کو قتل کردیا۔ کئی گاؤں جلا ڈالے، یوں یہ سلگتی ہوئی چنگاری پورے میانمار میں خوفناک آگ کی صورت اختیار کر گئی۔ جگہ جگہ نہ صرف مسلمان نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، انہیں گولیاں ماری گئیں بلکہ ان کی مدد کو پہنچنے والے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی روک دیا گیا۔تئیس جون کو یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرگیا۔ مساجد اور قرآن پاک کو جلانا شروع کردیا گیا۔ چوبیس جون کو لاپتہ مسلمانوں کی لاشیں ملنا شروع ہوئیں۔ ڈیڑھ ماہ کے دوران بائیس مساجد کو شہید کیا گیا، بیس ہزار مسلمانوں کا خون بہا، دس ہزار سے زائد مسلمان لاپتہ ہوئے۔ پانچ ہزار مسلمان خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سترہ گاؤں جلا دیے گئے جبکہ نوے ہزار سے زائد مسلمان اب تک نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے حکومت کے یکطرفہ فیصلوں پر شدید تنقید کی۔ ترکی، متحدہ عرب امارات، ایران سمیت انسانی عالمی تنظیموں نے اس معاملے پر اقوام متحدہ سے جلد نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان میں بھی قومی اسمبلی نے میانمار میں قتل و غارت گری کے خلاف قرارداد منظور کی۔ لیکن اس سارے معاملے میں اقوام متحدہ کی سرد مہری ، مغربی میڈیا کا تعصبانہ رویہ اور انسانی حقوق کے چیمپیئن امریکا کی معنی خیز خاموشی قابل ذکر رہی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.