25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 19:47
بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی
آج نیوز - سپریم کورٹ نے بلوچستان کی صورتحال پر ایف سی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مشترکہ جواب داخل کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کیوں اس بات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا کہ بلوچستان کا نقصان ہوا تو ملک کا بھی نقصان ہو گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں بدامنی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ نے بلوچستان کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی جسے عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیدیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ صوبے میں حالات بہتر نہیں اور بدامنی بڑھ گئی ہے لیکن یہ ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبا بارڈر ہے جسے ہم کنٹرول نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف سی کو ایک سو اڑتیس لاپتہ افراد کی فہرست دی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے لوگوں کی جان کی حفاظت کرو۔ لوگوں کو بسوں سے اتار کر اور مدارس میں جا کر مارا جا رہا ہے۔ سنی ہو یا شیعہ کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ جب بات ہاتھ سے نکل گئی تو کیا تب اقدامات کریں گے، وقت آگیا ہے کہ ملکی سلامتی کیلئے ہر شہری اٹھ کھڑا ہو۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے اور صوبے کے حالات انیس سو اکہتر سے ملتے جلتے ہیں، جگہ جگہ سے مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور ایف سی کی کارکردگی بھی بہت خراب ہے، اقدامات نہ کئے گئے تو صوبہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے تحت حکومت عدلیہ کا ہر حکم ماننے کی پابند ہے لیکن افسوس کہ حکومت کی جانب سے ابھی کچھ نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب کیلئے واضح پیغام ہے کہ بلوچستان کا خیال کریں اور ایف سی لکھ کر دے کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان میں کوئی دوسرا نظام نہیں چاہتے، کیوں اس بات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا کہ بلوچستان کا نقصان ہوا تو ملک کا نقصان ہو گا۔ مقدمے کی مزید سماعت کل پھر ہو گی، عدالت نے ایف سی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مشترکہ جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔