8 جولائی 2011
وقت اشاعت: 15:21
کراچی میں 86شرپسند گرفتار کئے گئے ، رحمان ملک
اے آر وائی - کراچی : وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ رینجرز ،پولیس اور ایف سی کی مدد سے کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا جارہاہے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات میں پچیاسی لوگ مارے گئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے89ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کراچی کیمپ آفس میں امن وامان پر اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی کی کٹی پہاڑی سمیت مختلف علاقوں میں طالبان موجود ہیں اور ان تمام حالات میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ شہر کی صورتحال خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں فی الحال فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں اگرضرورت محسوس ہوئی تو دیگر صوبوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر میں لاکر امن قائم کیا جائیگا۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کیلئے شہر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک حصہ پر پولیس اور دوسرے پر رینجرز آپریشن کریگی جبکہ انکی مدد کیلئے دوسو پچاس ایف سی اہلکاروں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں مزید ایف سی اہلکار جلد اسلام آبا د سے کراچی پہنچیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ شہر میں قیام امن کیلئے متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کٹی پہاڑی پر موجود دو چیک پوسٹیں بھی دہشت گردوں سے وا گزار کرالی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات آپریشن شروع کیا گیا تھا تاہم بلیک آؤٹ ہونے اور دہشت گردوں کی جانب سے بچوں اور بوڑھوں کو ڈھال بنانے پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔