12 جولائی 2011
وقت اشاعت: 6:11
امریکا نے چھپن برسوں میں سات مرتبہ پاکستان کی امداد روکی
اے آر وائی - کراچی : بھرپور دوستی کے دعووں کے باوجود چھپن برسوں میں امریکا نے ساتویں مرتبہ پاکستان کی امداد معطل کردی۔ امریکا کی جانب سے پاکستان می اسی کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی حالیہ معطلی کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ گزشتہ چھپن برسوں کے دوران امریکا کی جانب سے پاکستان کی امداد روکے جانے کا یہ ساتواں واقعہ ہے۔
امریکا نے بیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔ دونوں ملکوں میں عملی تعلقات کا آغاز فروری انیس سو پچپن میں ہوا۔ امریکا نے پہلی مرتبہ انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی فوجی امداد معطل کی۔ اسی طرح امریکا نے انیس سو اکہتر میں پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی دوسری مرتبہ فوجی امداد معطل کردی۔ یہ امداد امریکی صدر نکسن کے دورہ چین میں مدد دینے پر پاکستان کی امداد بحال کردی گئی۔
اپریل انیس سو اناسی میں امریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام پر اپنے خدشات کے پیش نظر تیسری بار فوجی امداد بند کردی۔ انیس سو نوے میں سوویت افواج کے افغانستان سے انخلاکے فوری بعد امریکا نے چوتھی بار پاکستان کی فوجی امداد معطل کری۔ یہ اقدام پریسلر ترمیم کے تحت کیا گیا۔ پاک امریکا تعلقات اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ایک بار پھر خراب ہوگئے اور گلین ترمیم کے تحت پاکستان کی امداد اور قرضے روک لیے گئے۔ پاکستانی امداد کی معطلی کا یہ چھٹا واقعہ تھا۔ اور اب دس جولائی کو امریکا کی جانب سے اسی کروڑ روپے کی فوجی امداد روکے جانے کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ساتواں واقعہ ہے۔