12 جولائی 2011
وقت اشاعت: 8:49
اسامہ کیلئے جعلی ویکسین مہم چلانیوالا ڈاکٹرگرفتار
اے آر وائی - لندن : ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کے ایما پر اسامہ کے خاندان کا پتہ چلانے کے لیے جعلی ویکسین مہم چلائی گئی۔ آئی ایس آئی نے مہم چلانے والے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا۔ برطانوی اخبار کے مطابق سی آئی اے نے جعلی مہم ایک بڑے سرکاری ڈاکٹر کے ذریعے چلائی۔ یہ مہم ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن سے ایک ماہ پہلے چلائی گئی۔ آئی ایس آئی نے جعلی مہم چلانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کر لیا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی خیبر کے علاقے میں شعبہ صحت کا انچارج تھا۔
برطاونی اخبار نے ایبٹ آباد کے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ داکٹر شکیل آفریدی رواں سال مارچ اور اپریل میں ایبٹ آباد گیا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ ہیپا ٹائی ٹس بی کی ویکیسن کے لیے اس نے فنڈز حاصل کر لیے ہین اور وہ علاقے میں لوگوں کی مفت ویکسینیشن کرے گا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پر کشش مراعات پر ابیٹ آباد محکمہ صحت کے نچلے عملے کی خدمات حاصل کر لیں۔
جعلی مہم کے دوران مختار بی بی نامی نرس کو اسامہ کے کمپاؤنڈ کے اندر بھیجا گیا۔ نرس نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بہانے کمپاؤنڈ تک رسائی حاصل کی۔ نرس کو ہدایت کی گئی تھی کہ پولیو کے قطرے پلانے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح بچوں کے خون کے نمونے حاصل کرے۔ تاکہ اسامہ کے خاندان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جا سکے۔ اسامہ بن لادن کی ایک بہن بوسٹن میں انتقال کر چکی تھی۔ اور امریکا با آسانی ڈی این اے موازنہ کر سکتا تھا۔
سی آئی اے حکام نے اس مہم کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار نے بتایا ہے کہ سی آئی اے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مہم کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق داکٹر شکیل آفریدی سے آئی ایس آئی تحقیقات کر رہی ہے۔ اور وہ پاکستان میں گرفتار واحد سی آئی اے ایجنٹ ہے۔