2 اگست 2011
وقت اشاعت: 15:41
کراچی : فرنٹیئرکانسٹیبلری کو پولیس کے اختیارات دینے کا فیصلہ
اے آر وائی - کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مشترکہ طور پر امن امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدرات کی۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو پولیس کے اختیارات دیئے جائیں گے جو ریزرو کے طور پر موجودگی اور ان کی خدمات ضرورت کے تحت استعمال کی جائیں گی۔
کسی بھی ٹارگٹ کلر کی نشاندہی کرنے والے کو پانچ ملین روپے اور ٹارگٹ کلر کی فوٹوگرافس اور وڈیو جو بھی شخص فراہم کرے گا اسے دس ملین روپے کے انعام سے نوازا جائے گا اور اطلاع دینے والے کا نام راز میں رکھا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کمیونٹی پولیس کو فعال بنایا جائے گااور نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایس ایچ اوز اور پولیس کو تعارف سے نوازا جائے گا۔
اجلاس میں آ ئی جی سندھ واجد علی درانی نے تفصیلی پریز نٹیشن دی اور کہا کہ اب تک اکیانوے ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے 191افراد کے قتل کا اقرار کیا ہے ۔ پولیس کو دیگر نتائج کی توقع ہے اور مزید گرفتاریاں بھی زیر حراست ٹارگٹ کلرز سے مزید تفتیش کے بعد ہونگی۔ اجلاس میں اس بات کو نوٹ کیا گیا کہ تشدد کی حالیہ لہر میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں جو کہ مختلف علاقوں میں صورش برپا کررہے ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ چند مجرم عناصر بعض سیاسی جماعتوں کے سائے تلے کام کررہے ہیں امن کے سلسلے میں پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان عناصر کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تصدیق کریں اور ان کا تعلق ان عناصر سے ہے کہ نہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان عناصر دہشت گردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائیگا اور رینجرز اور پولیس بلاتفریق اطلاعات پر فوری کارروائی کریگی۔