19 اگست 2011
وقت اشاعت: 18:40
کراچی میں دن بھر لاشیں گرتی رہیں، تعداد17ہوگئی
اے آر وائی - کراچی : کراچی میں دن بھر لاشیں گرتی رہیں، تعداد سترہ ہوگئی ۔ سرد خانوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ کراچی میں تیسرے دن بھی اغواء ہونے والوں کی لاشیں ملتی رہیں جبکہ فائرنگ کرکے بھی لوگوں کو ہلاک کیا گیا ۔ اور مجموعی طور پر 17افراد کو قتل کردیاگیا۔
آج کراچی میں قتل و گارت گیری کی وارداتیں ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہئیں ۔ راہ چلتے کسی کو گولی ماردی جاتی ہے تو کسی کو اغواء کرکے اس کی لاش بوری میں بند کرکے پھینک دی جاتی ہے۔ پاک کالونی تھانے کی حدود میں لیاری ندی سے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کو اغواء کے بعد قتل کیا گیا چاروں میں سے صرف ایک شخص کی شناخت رضوان کے نام سے ہوئی مقتول دو دن سے لاپتہ تھا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لیاری ندی میں لاشیں بہتے ہوئے مزکورہ مقام پر آکر رک گئیں تھیں۔
گلشن اقبال بلاک فائیو میں لاڑکانہ سے نشے کا علاج کرانے کے لئے آنے والے پیر بخش کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ۔ مبیہ ٹاؤن تھانے کی حدود لیمو گوٹھ میں شریف گبول کو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا پولیس کے مطابق مقتول سیاسی جماعت کا کارکن تھا۔ پی آئی بی کالونی میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا اظہر بلوچ دوران علاج دم توڑ گیا جبکہ اس کے ساتھ زخمی ہونے والا مبین موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا اورنگی ٹاؤن بلوچ گوتھ گلی نبر تین میں گھر کے باہر کھڑے چا بچوں کے باپ رسول بخش کو ملزمان نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کے بے روزگار اور نشے کا عادی تھا۔
لیاری میں بغدادی تھانے کی حدود سے بوری بند نوجوان کی لاش ملی جس کی شناخت نہیں ہوسکی جیکسن تھانے کی حدود شیریں جناح کالونی میں مکان میں گھس کر دونوجوانوں انور اور شہریار کو قتل کیا گیا دونوں محنت کشن تھے اور کسی سے ان کا جھگڑا نہیں تھا سول ، جناح اور عباسی شہید اسپتالوں میں قتل ہونے والے افراد کے ساتھ فائرنگ اور تشدد کے ساتھ زخمی ہونے والوں کو بھی لایا گیا ہے ۔
پرتشدد واقعات میں مارے جانے والے افراد کے اہل خانہ کو اسپتالوں میں قانونی کاروائی میں تاخیر کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے تک لاش موصول کرنے میں انتطار کرنا پڑتا ہے جس سے انہیں زہنی ازیت اٹھانا پڑتی ہے ۔ شہر میں بدھ کے دن 16 افراد اور جمعرات کو 31 افراد کا قتل پھر بھی قانون نافز کرنے والے ادارے خاموش ہیں اور کوئی قاتل گرفتار نہیں ہوسکا۔