19 اگست 2011
وقت اشاعت: 19:7
ایوان صدراجلاس، کراچی کے معاملات پرکمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ
اے آر وائی - اسلام آباد : کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کے معاملات پر ایوان صدر اسلام اباد میں اجلاس ہواجس میں کراچی کے معاملات پر گورنر،وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ کی نگرانی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ کراچی میں گینگ وار کا قلع قمع کرنے کےلئے سندھ سے فرارہونےوالےملزمان کو پکڑنے کےلئے بلوچستان حکومت سے رابطہ کیا جائےگا۔ غیرقانونی اسلحہ کی روک تھام کےلئےبھی اقدامات کئےجائیں گے۔ کراچی کی صورتحال بہتر کرنے کےلئے انٹیلیجنس نیٹ ورک بھی بہتر بنایاجائےگا۔ گورنر ، وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ پر متشمل ٹیم ہر وقت رابطے میں رہے گی اور صدر کو بھی صورتحال سے آگاہ رکھے گی۔ اجلاس میں جاں بحق افراد کے لواحقین کی فوری امداد کا بھی فیصلہ کیاگیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ ملزمان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو فون کیا جس میں کراچی کی صورتحال کو بہتر بنانے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر صدرزرداری نے کہا کہ موجودہ تشدد کے واقعات کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان خلیج چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ کراچی میں پر تشدد واقعات کا خاتمہ ہوناچاہے جو امن و استحکام کےلئے ضروری ہے۔ایم کیو ایم اس حوالے سے ہر اقدامات کی حمایت کرے گی۔
صدرزرداری نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اس جرائم پیشہ عناصر اور گینگسٹرز کو بھرپور پیغام جائےگا۔ زرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے صدر زرداری سے ایم کیو ایم سے متعلق آئی بی اور ایف آئی اے کی جانب سے مف گھڑت اطلاعات فراہم کرنےکا الزام عائد کیا۔صدرزرداری نے اطلاعات سے متعلق تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔