19 اگست 2011
وقت اشاعت: 19:16
کراچی کو فوج کے حوالےکیا جائے ،صنعتکاروں اور تاجروں کامطالبہ
اے آر وائی - کراچی : کراچی کے صنعتکاروں اور تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر کراچی کو فوج کے حوالے کیا جائے ۔بدامنی کے باعث کراچی میں تجارتی حلقوں کو سو ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔
تاجروں کی تنظیموں نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی میں جاری پرتشدد واقعات،بھتہ خوری،چندہ وصولی اور ہلاکتوں نے ملکی تجارتی وکاروباری سرگرمیوں کو تباہ کردیا ہے ،نائب صدر فیڈریشن خالد تواب نے کہا کہ حکومتی اداروں اور اعلی حکومتی عہدیداران کی پرسرار خاموشی ناقابل برداشت ہوچکی ہے ،کراچی میں کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے شہر فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ امن و امان کی خراب صورتحال سے کاروباری بندش سے یومیہ بنیاد پراربوں روپے کانقصان ہورہا ہے جبکہ دوسری جانب چھوٹے تاجروں کو بھتہ مافیا، چندہ وصولی کرنے والے عناصر کی جانب سے ہراساں کیا جارہاہے۔ حکومتی ادارے عوام کے جان ومال کو رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں بھی تحفظ فراہم میں بالکل ناکام نظر آرہے ہیں۔
کراچی میں جاری کئی ماہ سے خانہ جنگی پر حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے اور کوئی بھی خاطر خواہ اقدام نظر نہیں آئے ہیں۔مقامی وغیر ملکی سرمایہ کار کراچی سے اپنا کاروبارسمیٹ رہے ہیں اگر حکومت تاجروصنعتکاربرادری کو تحفظ فراہم نہیں کریگی تو کس طرح کاروباری وتجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھا جاسکے گا اوربرآمدی آرڈرز کی تکمیل کی جاسکے گی ۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی میں جاری پرتشدید واقعات کو ہنگامی بنیادو ں پر نوٹس لیتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کرے تاکہ کراچی میں امن وامان قائم ہوسکے ۔ کراچی میں اگر صورتحال اسی طرح جاری رہی تو تاجروصنعتکاربرادری اپنا کاروباربندکرنے پر مجبور ہوجائینگے اور بے روزگاری کا سیلاب حکومت کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا انہوں نے کہا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ ، جبری بھتہ خوری کے واقعات نے ملکی معاشی سرگرمیوں کو شدید مشکلات سے دوچارکیا ہے حکومت امن وامان فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کرداراداکرے اورعوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرے۔