تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
19 اگست 2011
وقت اشاعت: 20:2

بھارت کے سیلابی ریلے پنجاب کے شہروں کے لیے وبال جان بن گئے

اے آر وائی - قصور : بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں چھوڑے جانے والے سیلابی پانی سے دریا کنارے کے بیشتر دیہات زیر آب آگئے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہوئی ہیں ۔ حویلی لکھا کے قریب دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے ، دریا کے قریب جودھیکی اور دھرنگہ کا بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں ۔اور پانی چک دراز کے ، سوجیکی، جودھےکے، لنگر کے، ملے کے، واسو سالم سمیت متعدد علاقوں میں داخل ہوگیا ہے اور یہاں دھان، کپاس، اور تل کی کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں ۔



ضلعی انتظامیہ نے سیلاب کے پیش نظر ھیڈ سلیمانکی، سوجیکی، جمال کوٹ اور اٹاری کو ریڈ زون قرار دیتے ہوئے ایمر جنسی نافذ کردی ہے ۔ دریا سے ملھقہ علاقوں میں تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردئیے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک کسی سیاسی شخصیت نے دورہ نہیں کیا ۔



وہاڑی کے قریب دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور اس وقت چودہ ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔ مظفر گڑھ میں شہر سلطان کے قریب نامعلوم افراد نے دریائے چناب پر زمیندارہ بند توڑدیا۔ جس کے بعد پانی شہر کے حفاظتی بند سے ٹکراگیا ہے ۔متاثرہ مقام پر تاحال کوئی ٹیم نہیں پہنچی جبکہ پانی کی سطح مسلسل بلندہورہی ہے ۔ جس سے شہر سلطان ، کلروالی جتوئی ،پرمٹ اور دیگرعلاقوں کے ڈوب جانے کا خطرہ ہے ۔ قصور میں دریائے ستلج کے مقام پر پانی کی سطح میں معمولی کمی ہونا شروع ہوگئی ہے اور گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلابی ریلہ اٹھارہ فٹ سے ساڑھے سترہ فٹ ہوگیا ہے۔



قصور دریائے ستلج میں اس وقت گنڈ اسنگھ کے مقام پر 35ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے۔ سیلابی ریلہ سے پندرہ سے سترہ گاؤں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آچکی ہے۔ سیلابی ریلہ سے چندا سنگھ، مستے کی، بھکی ونڈ ،کلنجر، مبوکے، نگر، رنگے والا، رتنے والا سمیت متعدد دیہات زیر آب آگئے اور سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں پانی میں بہ گئی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.