20 اگست 2011
وقت اشاعت: 16:11
سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کا فیصلہ،آج اعلان ہوگا
اے آر وائی - اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے کئ روز کی مشاورت کے بعد سندھ میں بڑی سیاسی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان آج رات کو کور کیمٹی کے بعد ہوسکتا ہے صدر نے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر نہ صرف پی پی پی کے اہم رہنماوں سے مشاورت کی ہے بلکہ اپنے حلیفوں جن میں متحدہ کے قائد الطاف حسین ، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی اور جے یو آئی کے صدر مولانا فضل ائرحمان شامل ہیں۔
باخبر ذرایع کے مطابق سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ کو مرکز میں لانے اور وفاقی وزیر سید حورشید شاہ کو پہلے مرحلے میں سندھ میں مشیر اعلی اور بعد میں وزیراعلی بنانے کا فیصلہ ہوگیا ہے یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ بھتہ وصولی کو دہشت گردی قرار دینے کے لئے انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے پولیس اور رینجرز کو غیر معمولی اختیارات دئیے جارہے ہیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں اضافہ کرکے جلد از جلد کیا جائے گا۔
دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت میں شمولیت کو کراچی میں دہشتگردی میں ملوث افراد کی گرفتاری سے مشروط کیا ہے اسسلسلے میں رابط کیمٹی کل اہم اعلان کرے گی ایک اہم پیش رفت کمشنری نظام اور بلدیاتی نظام کے حوالے سے پی پی پی ، متحدہ میں اتفاق رائے ہوگیا ہے اور آصف علی زرداری اور الطاف حسین نے اس کی منظوری کے لئے رابط کیمٹی اور کور کیمٹی کے اجلاس بلائے ہیں پی پی پی اور متحدہ نے اتفاق کیا ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر کا تعلق دونوں جماعتوں کا اہم امور پر اتفاق رائے اور ایک ساتھ چلنے پر اتفاق ہے متحدہ نے حکومت کو دہشتگردی کی ایک طویل فہرست دی ہے اور ساتھ میں حال ہی میں ہونے والےکچھ قتل کی سی ڈی ۔
ذرایع نے بتایا ہےکہ سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذولفقار مرزا نے کل رات صدر سے ملاقات میں اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا ہے ،صدر نے ذولفقار مرزا کو کسی قسم کے بیانات دینے سے گریز کرنے کو کہا ہے۔