9 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 17:18
قرآن سرپراٹھانے کیلئے رہنمائی کیلئے ہے ،الطاف حسین
اے آر وائی - ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ قرآن شریف سر پر اٹھانے کے لئے نہیں بلکہ رہنمائی کے لئے بھیجا گیا ہے ، قائد اعظم ایک لبرل سوچ کے مالک تھے ، انہوں نے پاکستان کا مطلب کیا ” لاالہ الااللہ “ نہیں لگایا ،کراچی میں شہریوں کو اتنا ظلم کا نشانہ بنایا گیا کہ اگر تحریک کا قائد نہ ہوتا تو خود کراچی آجاتا ، پہلے مارتا اور پھر جان قربان کر دیتا ۔
لندن سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں کارکنان شہید نہیں ہوئے بلکہ انہیں شہید کر دیا گیا ، ٹارچر سیلوں میں اغواءکے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کر کے لاشیں پھینک دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ نئی نسل کو صیح نہیں پڑھائی جا رہی ، قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہر مذہب کے شہریوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں آج بھی ایسے بے ضمیر لوگ ایسے ہیں جنہیں میں اس وقت سے جانتا ہوں جب میں پیوند والے کپرے پہنتا تھا اور اپنی خبریں لگانے کے لئے ان سے درخواست کرتا تھا مگروہ کہتے تھے کہ جمعیت کی خبر بڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہم پختونوں کا قتل عام کرانا چاہتے ہیں اور تاثیر دیا جا رہا ہے کہ میں پختونوں کا دشمن ہوںلیکن میں تو ایسے پختونوں کے شہید ہونے پر یوم سوگ مناتا ہوں جنہیں میں جانتا بھی نہیں ہوں ۔