13 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 18:2
سپریم کورٹ میں کراچی دہشتگردی ازخود نوٹس کی سماعت
اے آر وائی - سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی دہشتگردی ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے وکیل بابر اعوان اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے دلائل دیے ۔ بابراعوان اپنے دلائل کل مکمل کریں گے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی ، سماعت کیلئے چیف جسٹس کی گاڑی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی سڑک پر آرٹس کونسل کے سامنے پہنچی توموسم کی سختی کے آگے جواب دے گئی چیف جسٹس پروٹوکول کی دوسری گاڑی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچے۔
وفاق کے وکیل بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی حمایت کرتے ہیں اس سے بہت سی نقابیں اتریں گی ۔انھوں نے کہا کہ عدالت میں صدر وزیر اعظم کو بزدل کہا گیا چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے سیاسی بیانات کی حمایت نہیں کی بلکہ روکا ہے۔ آپ کورٹ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔بابر عوان نے شکوہ کیا کہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بے نظیربھٹو پر حملے کے واقعے پر ازخود نوٹس نہیں لیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بابرا عوان آپ ذمہ دار آدمی ہیں اپنا ریکارڈ درست کریں،سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور وہ ابھی التواء کا شکار ہے بابر اعوان نے صوبائی حکومت اور وفاق فیل نہیں ہوئے ہیں۔ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں وقت دیاجائے وہ اپنے دلائل کل مکمل کریں گے ۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوال کے جواب کی تلاش ہے کہ کراچی میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی کہ نہیں؟اگر ہوئی تو یہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہوئی یا حکومت کی جانب سے ، انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق شہر میں بدامنی روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے،فوج طلب کرنا ہوگی تو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کریں گی، جسٹس غلام ربانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ کراچی میں بدامنی ایک دن کا واقعہ نہیں آپ کو ملزمان کی شناخت نہیں ہے تو آپ شہریوں کو بدامنی سے کیسے بچائیں گے ، ہمیں پاکستان کو بچانا ہے اوراس قوم کو بچانا ہے،اٹارنی جنرل نے سماعت کے دوران ایک رپورٹ بھی پیش کی ۔
ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں انیس سو اکیانوے سے لیکر دو ہزار گیارہ تک کی کراچی میں بدامنی کی رپورٹ پیش کی ۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جرائم ختم کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہیں ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس بیس سال سے مزید کتنا وقت چاہئے اب مزید وقت نہیں ہے ۔ حالات کو ہرحال میں بہترکرنا ہیں۔