21 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 19:19
پاکستان ٹوٹنے کی صورت میں کیا قدم اٹھایا جائے ،امریکا ،انڈیا
اے آر وائی - امریکانے بھارت کواس کی خواہش پر ایشیا میں تھانےدار بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کی راہ میں رکاوٹ ہے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان۔ امریکی ادارے کی خفیہ رپورٹ کے مطابق یہ طاقت بھارت کو پسند ہے نہ امریکا کو اسی لئے دونوں کےگٹھ جوڑ سےمستقبل میں خطے کی نقشہ بندی کی گئی ہے۔
امریکا کی کونسل آن فارن ریلیشن اور آسپین انسٹیٹوٹ آف انڈیا کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اندرونی انتشار کا شکار ہے ایسی صورت میں اس کے حصے بخرے ہونے کا خطرہ ہے ، پاکستان ٹوٹا تو اسکے ایٹمی اثاثوں کا تحفظ مسئلہ بن سکتا ہے ۔منصوبہ سازوں نے پاکستان کےایٹمی اثاثوں کاکنٹرول پاک فوج سے چھن جانےکے بعد کی صورت حال پر بھی غور کیا ۔
رپورٹ میں امریکا سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی ایٹمی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنیکل معاونت جاری رکھنے کے ساتھ ان کی کسی تیسرے ملک کو منتقلی ہر صورت روکے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ امریکا پاکستان کی فوجی امداد پر کڑی شرائط عائد کرے اور اسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی پر مجبور کیاجائے جبکہ بھارت سے بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان سے کشمیر سمیت تمام ایشوز پر دوطرفہ مذاکرات جاری رکھے۔
امریکی افواج کی افغانستان میں دوہزار چودہ کے بعد بھی موجودگی پر اتفاق کیا گیا تاہم اسے افغان حکومت کی مرضی سے مشروط کیا گیا ہے ۔ امریکی اور بھارتی تحقیقی اداروں نے یہ رپورٹ دونوں ممالک کے ماہرین ،تاجروں اور دیگر کی آرا سے مرتب کی ہے، جس میں بھارت کوبرابر کےاتحادی کا درجہ اور خطے میں عالمی کردار دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
جوائنٹ رپورٹ کے مطابق بھارت اور امریکا کے مابین پاکستان ، افغانستان ، چین ، مشرق وسطیٰ سے متعلق حکمت عملی کے علاوہ دفاعی اقتصادی تعاون اورتوانائی سے ٹیکنالوجی کے تبادلے پر باہمی تعاون بڑھانے کے مشورے دیئے گئے ہیں۔ بھارت کو مشورہ دیا گیا ہےکہ عراق اور افغانستان میں استحکام کے لیے ایران سے بات چیت کو آگے بڑھائے۔