تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
23 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 13:45

آئین کے علاوہ کوئی اورنظام تسلیم نہیں کیا جائے گا ، چیف جسٹس

اے آر وائی - چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ بینچ اور بار اس نکتے پر متفق ہیں کہ اس ملک میں آئین کے علاوہ اور کوئی نظام نہیں لایا جا سکتا اور نہ ہی اس کی اجازت دی جائے گی .



سپریم کورٹ بار کے عہدے داروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں عدلیہ بحالی تحریک میں وکلاء کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ہر مشکل وقت میں بینچ کو بار کا تعاون حاصل رہا ہے جس کا مقصد ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی تھا اور اسی مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار کا یہ تعاون ہمیشہ جاری رہے گا۔



بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی وکلاء سے بار کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اورانہیں ہر مشکل وقت میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ بینچ سے تعاون کے ساتھ ساتھ وکلاء کا ایک آزادانہ کردار بھی ہے اور وہ اپنے طور پر بھی آئین کی بالادستی اور غیر آئینی نظام کے لئے متفق اور متحد ہیں۔



انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے بعد اگرچہ وہ بار کی صدر نہیں ہو ں گی تاہم ان کا اور ان کے ساتھیون کا تعاون اس کے بعد بھی جاری رہے گا ۔ انہون نے توقع ظاہر کی کہ آنے والی بار بھی چیف جسٹس اور وکلاء کی توقعات پر پوری اترے گی ۔ اجلاس میں سپریم کورٹ بار کی نئی عمارت کی تعمیر اور اس کی نئیر علی دادا سے نقشے کی تیاری کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.