28 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 16:23
وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کی بان کی مون سے ملاقات
اے آر وائی - وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کی۔ وطن واپس روانگی سے قبل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں انہوں نے بان کی مون کو سندھ میں حالیہ شدید بارشوں سے تباہی، حکومت پاکستان کی طرف سے متاثرین کی امداد و بحالی کے اقدامات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اہم کردار سے آگاہ کیا۔
وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان میں گزشتہ سال سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے امداد کی فراہمی اور سندھ میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے 357 ملین ڈالر کی اپیل پر عالمی ادارے کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون بھی وزیرخارجہ کے ہمراہ تھے۔ حکام کے مطابق وزیر خارجہ نے 2010ء میں پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مشکلات سے عالمی برادری کو موثر انداز میں اجاگر کرنے پر بان کی مون کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان خود گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی متاثرین سیلاب کی امداد و بحالی کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ اور یورپین پارلیمنٹری مشن کی ایونٹ میں 2010ء کے سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں حکومت کی طرف سے کئے گئے ریلیف آپریشن کو کامیاب ترین ہیومینٹرین آپریشنز میں سے ایک قرارد دیا ہے۔
وزیرخارجہ نے بان کی مون کو بتایا کہ حکومت پاکستان حالیہ بارشوں سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد و بحالی کیلئے تمام ترقومی وسائل بروئے کا لارہی ہے تاہم تباہی اس قدر زیادہ ہے کہ ہم محض اپنے وسائل سے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وزیرخارجہ نے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بریفنگ میں کہاکہ اس جنگ میں پاکستان کے 30 ہزار بے گناہ شہری مارے گئے اور مسلح افواج کے 6532 ارکان جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3629 ارکان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام نے اپنے ملک، خطہ اور پوری دنیا سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وزیرخارجہ نے ملاقات کے دوران علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے کے ممالک میں امن و استحکام کیلئے عزم کا اعادہ کیا۔