30 ستمبر 2011
وقت اشاعت: 14:17
دس ، پندرہ سال کا اجتماعی ایجنڈا تشکیل دیا جائے ، نواز شریف
اے آر وائی - پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ دس ، پندرہ سال کا اجتماعی ایجنڈا تشکیل دیا جائے ، حکومتی پالیسی پر ہمارے شدید تحفظات ہیں اگر پارلیمنٹ کی مشترکہ قراردادوں پر عملدرآمد ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ، حکومت کی پالیسیوں پر سخت تحفظات ہیں ، جمہوری حکومت کو بتانا چاہیے کہ امریکا سے کیا لین دین ہے ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہوںنے اے پی سی میں کہا کہ ہاتھ میں کشکول لے کر خود مختاری کی بات کریں گے توکوئی بھی ہماری سالمیت کا احترام نہیں کرے گا ،ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں ہیں اس لئے ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہیے ، کوئی بھی جماعت اکیلئے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لئے دس ، پندرہ سالوں کیلئے ایسا اجتماعی ایجنڈا تشکیل دینا چاہیے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا حصہ ہو اور کوئی بھی حکومت اپنی مرضی سے پالیسی تشکیل نہ دے سکے ۔
نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے اے پی سی میں زور دیا کہ معاشی اصلاحات کی جائیں ، مشترکہ پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے، سانحہ ایبٹ آباد پر اگر چہ کمیشن بنایا لیکن قرارداد کے مطابق اس میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہیں کی گئی ، اس واقعہ کے بعد مخالفین کو ہمارے خلاف بیان بازی کا مزید موقع ملا ، ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر دنیا ہمارا موقف تسلیم کر رہی تھی اس کے باوجود اس کی پر اسرار طور پر بری کیوں کر دیا گیا ؟
نواز شریف نے کہا کہ آج بتایا جا رہا ہے کہ ملک کو غیر ملکی جارحیت کا خطرہ ہے لیکن پہلے یہ بتایا جا ئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سے کون سا خفیہ معاہدہ ہے ؟ حکومت کو وہ دستاویزات سامنے لائے ۔ نواز شریف نے حکومتی پالیسیوں پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کاہ کہ جس طرح مشرف نے فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اسی طرح موجودہ حکومت نے اپنے مفادات کی خاطر جمہوریت کو نقصان پہنچایا ۔
انہوں نے بتایا کہ اے پی سی میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 35 ہزار جانیں قربان کرنے ، معاشی طور پر تباہ ہونے کے باوجود کل تک ہمیں اسٹریٹجک پارٹنر کہنے والا امریکا آج ہمارے خلاف کیوں ہے ؟ اتنی زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود آج دنیا ہماری نیتوں پر کیوں شک کر رہی ہے، ہم کیوں تنہا ہیں اور ہم کیوں کٹہرے میں کھڑے ہیں ؟ہمیں کیوں دھمکیاں دی جا رہی ہیں ؟
نواز شریف نے کہا کہ بدعنوانی ، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے ہم اندرنی طور پر کمزور ہو چکے ہیں اور جب کوئی اندر سے کمزور ہو جاتا ہے تو وہ بیرونی طاقتوں سے مقابلہ نہیں کر سکتا ، کیوں آج ملک میں بے روزگاری ، لاقانونیت ، لوڈ شیدنگ عروج پر ہے ؟
نواز شریف نے بتایا کہ اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا اور قومی مفاد کیلئے میں ہر دروازے پر جانے کو تیار ہیں جہاں بھی میری ضرورت ہو گی اور میرے دروازے بھی سب کیلئے کھلے ہیں ، ملک کی سلامتی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس کے لئے ہم سب ایک ہیں ۔