تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
2 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 8:27

سندھ کے سیلاب متاثرین کی مشکلات کم نہ ہو سکیں

اے آر وائی - سندھ کے سیلاب متاثرین کے دکھ کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔ بستیاں پانی میں ڈوبی ہیں اور راستے بند ہونے سے غذائی بحران شدت اختیار کرگیا ہے جبکہ حفاظتی بند توڑ کر پانی کا رخ موڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔



شہداد پور کے نذدیک کلوئی گوٹھ کا حفاظتی بند ٹوٹنے کے باعث سیلابی پانی شہداد پور شہر میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے۔تعلقہ اسپتال ڈیتھا گوٹھ سمیت متعدد علاقے زیر آگئے ہیں ۔شہریو ں میں خوف و ہراس، انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی بند کو دوبارہ باندھنے کی کوشش جاری ہیں ۔



سانگھڑ کی چوون یونین کونسلوں میں سے چالیس یونین کونسلیں مکمل طور پر زیر آب آنے کے باعث فصلیں تباہ ہوچکی ہیں ، گھرمسمار ہوچکے ہیں ، اس وقت تک متاثرین کی ضلع سانگھڑ میں تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔جنھیں راشن ، خیمیں اور ادویات کی شدید ضرورت ہے۔ ،مچھروں کی بہتات کے باعث ملیریا اور گیسٹرو کی وباء میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔



خیرپور میں کئی علاقوں میں اب بھی بارش کا پانی دریا کا منظر پیش کررہا ہے فیض گنج اور نارا کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔ دیہات سے بارش کا پانی نہ نکالنے کے باعث وبائی بیماریاں زور پکڑ گئی ہیں۔دیہی علاقوں سے بارش کا پانی نہیں نکالا گیا تو خیرپور ضلع کی 3لاکھ ایکڑ اراضی پر گندم کی کاشت نہیں ہو سکے گی جس سے بڑ ے بھونچال اور قحط کا خطر ہ پیدا ہوجائے گا ۔



ضلع بدین کے بعد ضلع میرپورخاص میں بھی متاثرین کی امداد کیلئے پاکستان کارڈ کا آغاز کردیا گیا ہے۔ متاثرین کو پاکستان کارڈ فراہم کرنے کیلئے سات نادرا سینٹر قائم کئے جارہے ہیں جس میں پانچ ضلع ہیڈ کوارٹر میرپورخاص اور ایک تحصیل جھڈو اور ایک نوکوٹ میں قائ ہوگا .ٹنڈو محمد خان کے گائوں بجر خان تالپر میں جمع پانی سے یہاں کے مکین شدید مشکلات سےدوچار ہیں ۔ جھونپڑیوں میں رہائش پذیر یہاں کے افراد موزی جانوروں کی وجہ سے دہرے عذاب میں مبتلا ہیں سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج ، پاک بحریہ اور رینجرز کی امدادی سرگرمیاںجاری ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.