4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 8:52
لاہور ہائی کورٹ:لوڈشیڈنگ سے مستشنیٰ مقامات کا ریکارڈ طلب
اے آر وائی - لاہور ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست پر ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سمیت لوڈشیڈنگ سے مستشنیٰ تمام مقامات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
جسٹس شیخ عظمت سعید کی عدالت میں درخواست گزار اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں لوڈشیڈنگ سے مریض اور طلبا شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پورے ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے مگر اہم شخصیات پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔
عدالت نے پیپکو کو ہدایت کی کہ ملک بھر کے تمام اضلاع میں اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول پیش کیا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ ایک اور مقدمہ میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ڈینگی کے خاتمے تک لاہور کو لوڈشیڈنگ سے مستشنیٰ قرار دینے کی درخواست پر وفاقی حکومت، پیپکو اور لیسکو سے 7 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے، اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ لاہور میں لوڈشیڈنگ سے ڈینگی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ اسپتالوں میں بجلی نہ ہونے سے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔