4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 10:1
وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے حکومت سے استعفے کا مطالبہ کردیا
اے آر وائی - وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگر عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو جائے ۔ جبکہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے سندھ اور بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکرفیصل کریم کنڈی کی صدارت میں جاری ہے جس میں کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔ دونوں صوبوں میں گورنر راج نافذ کیا جائے۔ اور اگر عوامی مسائل مرکزی حکومت حل نہیں کر سکتی تو وہ بھی مستعفی ہو ۔
حکومتی رکن ندیم افضل چن نے بھی بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیا ۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت قائم ہے اور اگر ٹارگٹ کلنگ کایہی سلسلہ جاری رہا تو ہم بغاوت پر مجبور ہوجائیں گے۔حکومتی رکن سید ناصر علی شاہ نے کوئٹہ واقعہ پر ایوان سے واک آؤٹ کیا اور کہا کہ جب تک بلوچستان میں گورنر راج نافذ نہیں کیا جاتا ایوان کی بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری رکھیں گے ۔
حکومتی رکن حامد سعید کاظمی نے کہا کہ ملک میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہے مساجد امام بارگاہوں او ر مزارات کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے ۔ ایم کیوایم کے وسیم اختر اور پیپلز پارٹی کی فرح ناز اصفحانی نے کوئٹہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ذمہ دار قراردیااور مطالبہ کیا کہ گورنر اور وزیر اعلی اس واقعہ کا نوٹس لیں ۔ اے این پی کی بشری گوہر نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر وزیر داخلہ مستعفی ہوں ۔
ق لیگ کے اویس لغاری نے کہا کہ ق لیگ کو وزارتوں کا شوق تھا آج نہ تو لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی اور نہ ہی عوامی مسائل حل ہوئے ۔ ق لیگ کے امیر مقام نےکہا کہ حکومت اب تک عوام کی توقعات پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔