4 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 12:28
ملک بھر میں بجلی کا شدید بحران ، عوام کا احتجاج
اے آر وائی - ملک بھر میں بجلی کی اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہاہے۔ مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اکیس گھنٹے تک پہنچ گیاہے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں تاجروں کی جانب سے شٹر ڈاؤن جاری ہے اور احتجاج بھی کیا گیا جبکہ لاہور، فیصل آباد اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کئے گئے۔
لاہور میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں دوگھنٹے کی کمی آگئی ہے۔ اب دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ لاہور کے پوش علاقے میں دس گھنٹے اوردیگر علاقوں میں بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔سمن آباد میں جماعت اسلامی کے تحت لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے میں ملتان روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کر دیا گیا جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
گوجرانوالہ میں لوڈشیڈنگ کے خلاف تاجروں نے شٹرڈاون کیا۔ شہریوں نے جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔ فیصل آباد میں ایک ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، سو لہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔شہر میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے۔ غلام محمد آباد ، جھنگ روڈ ،ستیانہ روڈ ، ضلع کونسل چوک اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی۔بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پاورلومزسمیت دیگر فیکٹریاں بند ہورہی ہے۔ ہزاروں مزدوربیروز گارہوگئے ہیں۔ شہر میں بجلی کی طلب اٹھارہ سو میگاواٹ ہے۔جبکہ ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تین شفٹوں کے بجائے ایک شفٹ میں کام ہورہاہے۔
گجرات میں گذشتہ روز لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں سب سے زیادہ نقصان واپڈ کمپیلیکس کو پہنچاتھا۔ ایس ای واپڈا میاں منیر کے مطابق نقصان کا تخمینہ ڈھائی کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ ایس ای کی مدعیت میں ہی توڑپھوڑ کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔ شیخوپورہ میں آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیاہے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں آٹھ سے بارہ اور دیہی علاقوں میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں پشاور سمیت شہری علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ پشاور میں شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے، دیہات میں اٹھارہ سے بائیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے گذشتہ روز لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد منظورکی تھی۔اس کے باوجود بھی دیہات میں بائیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ پشاور میں پرنٹنگ پریس ایسوسی ایشن نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے بھی کئے۔ سوات میں بھی اکیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے درجنوں فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔ مینگورہ میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چھتیس ٹیوب ویل بند ہوگئے ہیں۔ پانی کی قلت پید ا ہوگئی ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بڑے شہروں میں چھ سے آٹھ ، ضلعی ہیڈکوارٹر میں سولہ اور دیہی علاقوں میں بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ بلوچستان کے تیس اضلاع میں سے اٹھائیس اضلاع کو پانی ٹیوب ویلوں کے ذریعے فراہم کیاجاتاہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی کی قلت پیداہوگئی ہے ۔ کراچی میں صنعتی علاقوں میں آٹھ گھنٹے اور رہائشی علاقوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔شہرمیں بجلی کی طلب ڈھائی ہزار میگاواٹ ہے۔ جبکہ سو لہ سو میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ ملیر میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مکینوں نے مظاہرہ کیا ۔