28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 13:59
میموملکی سلامتی کا معاملہ ہے،سیاسی کیسے کہہ دیں،چیف جسٹس
اے آر وائی - سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میمو کیس کی تحقیقات سونپنے کا مینڈیٹ قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کو ہے۔تحقیقات کا فورم فریقین کی مرضی سے نہیں، قانون کے مطابق ہوتا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بینچ نے میمواسکینڈل کیس کی سماعت کی۔حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میمو کا وجود کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں۔حسین حقانی نے کسی کے بنیادی حقوق کی نفی نہیں کی۔ حکومت اور فوج کے مابین تناؤ موجود ہے۔ حسین حقانی کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اسے سیاسی کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکو مت نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان حلفی کی تردید نہیں کی بلکہ اپنا موقف پیش کیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ وہ مقدمے میں صدر کے جواب کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ وفاق کا موقف پیش کرچکے ہیں۔ حکومت نے مزید کوئی ہدایت دی تو کل عدالت میں پیش کردیں گے۔سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کر دی گئی۔