2 جنوری 2012
وقت اشاعت: 16:30
گیس کی بندش کے خلاف مختف شہروں میں مظاہرے
اے آر وائی - گیس کی بندش اور سی این جی نہ ملنے کی وجہ سے پشاور راولپنڈی اور فیصل آباد میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔ سی این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور کمرشل گاڑیوں میں سی این جی پر پابندی کیخلاف ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز اور سی این جی ایسویسی ایشن نے ہڑتال کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیئے۔ ٹرانسپورٹرز نے احتجاجاً روکاوٹیں کھڑی کرکے شاہراہوں کو چاروں اطراف سے بند کرکے احتیجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جبکہ سی این جی ایسویسی ایشن کے عہدیداران نے بھی ٹرانسپورٹروں کا ساتھ دیا اور کئی گھنٹے تک شاہراہوں کو جام کئے رکھا۔
اس موقع پر ٹرانسپورٹرز ایسویسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا راتوں رات اربوں روپے کی انڈسٹری کو نقصان پہنچا یا ہے، ہزاروں گاڑیاں سی این جی کی وجہ سے کھڑی ہو گئی ہیں جس سے لاکھوں افراد کا روز گار وابستہ تھا،اسی طرح ٹرانسپورٹرز کا کاروبار متاثر ہوتا ہے تو سی این جی اسٹیشنز مالکان کو بھی انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مظاہرین نے احتجاجاً ٹائر بھی جلائے اور کہا کہ جب تک حکومت عوام کو سستا سفر فراہم نہیں کرتی تب تک ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری رہے گی۔
سی این جی ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سی این جی ایسوسی ایشن نے کل دوبارہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ سی این جی ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر غیاث پراچہ نے کہا ہےکہ حکومت کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو گیس لوڈ منیجمنٹ پروگرام پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔
مذاکرات کے دوران سیکرٹری پٹیرولیم، اوگرا اور سوئی نادرن حکام نے شرکت کی۔ اس دوران حکومتی اور سی این جی ایسوسی ایشن کے اراکین اپنے اپنے موقف پرڈٹے رہے۔ بعد ازاں حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ پر سی این جی کی پابندی میں 15دن کے لئے معطل کردی ہے ۔