3 جنوری 2012
وقت اشاعت: 12:13
قومی اسمبلی: ایم کیو ایم اور اے این پی کے درمیان شدید جھڑپ
اے آر وائی - قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم اور اے این پی کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ احتجاج اور ہنگامہ ارائی کے باوجود نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایوان میں بحث کرانے پر دونوں جماعتیں متفق ہوگئیں۔
اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں ہوا۔ ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی کا موقف تھا کہ ایوان میں نئے صوبوں کے حوالے سے بحث کرائی جائے جس کی اے این پی نے مخالفت کی۔ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ کسی کو ان کا صوبہ تقسیم کر نے کا کوئی حق نہیں صوبائی مسلے کو قومی اسمبلی میں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی تقسیم کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
اے این پی کے پرویز خان نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے قرار داد کو مسترد کیا جائے۔ ن لیگ کے شیخ افتاب احمد نے کہا کہ صوبائی معاملہ اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے وہ وقت دور نہیں جب عوام کے ہاتھ ایوان کے گریبان پر ہوں گے۔ ن لیگ ہی کے سردار مہتاب احمد عباسی اور عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مسلے پر کسی سے نہیں لڑیں گے اس مسلے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں۔ تاہم اس معاملے پر کسی کو مفاد نہیں اٹھانے دیں گے ان کا مطالبہ تھا کہ عوام کو گیس اور بجلی فراہم کی جائے۔
فاٹا کے منیر اورکزئی، کامران خان اور ظفر بیگ بھٹنی نے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں غیورستان کے نام سے نیا صوبہ بنایا جائے انہوں نے الزام لگایا کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے فاٹا کو ہمیشہ پسماندہ رکھا۔ جے یو ائی کے لائق محمد خان نے کہا کہ ہزارہ کے عوام کو صرف الگ صوبہ چاہیئے۔ ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اب ایک ہاتھ کے فاصلے پر دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ثابت کردیا کہ اب سرائیکی اور ہزارہ صوبہ بن کر رہے گا۔ حیدر رضوی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے ایم کیو ایم ارکان کو ماروائے ائین مارا گیا نواز شریف بتائیں فوجی عدالتیں قائم کر کے وہ کراچی والوں سے کیا د شمنی چاہتے ہیں۔
نئے صوبوں کے حوالے بحث کے معاملے پر ہنگامہ آرائی کے باعث تیس منٹ تک ایوان کی کاروائی معطل رہی جس کے بعد جمعرات کو ایوان میں بحث کرانے پر اتفاق ہوا۔ ایوان میں نئے صوبوں کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی نواز لیگ نے گیس بحران اور ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر ایوان سے علامتی واک اوٹ بھی کیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام پانچ بجے دو بارہ ہو گا۔